جھارکھنڈ: لوہردگا میں تشدد کے بعد انٹرنیٹ خدمات بند، دفعہ 144 نافذ، مذہبی جلوس پر پابندی

رام نومی میلے کے دوران ہراہی-ہیندلاسو گاؤں میں پتھراؤ اور آگ زنی کے واقعات کے بعد سے کشیدگی کا ماحول ہے، کچھ لوگوں نے رام نومی جلوس کے دوران بھیڑ پر پتھراؤ شروع کر دیا تھا جس سے بھگدڑ مچ گئی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

جھارکھنڈ کے لوہردگا ضلع میں اتوار کو رام نومی میلے کے دوران ہراہی-ہیندلاسو گاؤں میں پتھراؤ اور آگ زنی کے واقعات کے بعد انٹرنیٹ کدمات بند کر دی گئی ہے۔ ضلع انتظامیہ کی ہدایت پر اگلے حکم تک خدمات ملتوی کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ تشدد متاثرہ علاقوں مین دفعہ 144 کا نفاذ بھی ہو گیا ہے۔ انتظامیہ نے سبھی طرح کے مذہبی جلوس اور تقاریب کو فوری اثر سے منسوخ کر دیا ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کی ٹیم متاثرہ علاقوں میں کیمپ کر رہی ہے۔ سرکل افسر لوہردگا کی طرف سے اس سلسلے میں دو الگ الگ احکام جاری کیے گئے ہیں۔ پہلے حکم میں کہا گیا ہے کہ لوہردگا ضلع کے تحت کسی بھی طرح کے مذہبی جلوس اور مذہبی تقریب کے انعقاد کے لیے دیے گئے حکم کو فوری اثر سے آئندہ حکم تک کے لیے رد کر دیا گیا ہے۔

رام نومی میلے کے دوران ہراہی-ہیندلاسو گاؤں میں پتھراؤ ارو آگ زنی کے واقعات کے بعد سے کشیدگی پھیل گئی ہے۔ خبروں کے مطابق علاقے میں رام نومی کے جلوس کے دوران کچھ لوگوں نےبھیڑ پر پتھراؤ شروع کر دیا جس سے بھگدڑ مچ گئی اور نصف درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہو گئے۔ اس کے بعد دونوں فریقین کے لوگوں نے پتھراؤ شروع کر دیا۔ کشیدگی بڑھنے پر میلے میں ایک درجن سے زیادہ موٹر سائیکل اور ایک پِک اَپ وین میں آگ لگا دی گئی۔ بھوگتا گارڈن کے پاس دو گھروں میں بھی آگ لگا دی گئی۔


لوہردگا کے ڈی سی اور ایس پی سمیت کئی سینئر افسر اس موقع پر پہنچے۔ پورے علاقے میں زبردست پولیس فورس تعینات کر دیا گیا ہے۔ ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ حالات پر قابو پا لیا گیا ہے۔ پتھراؤ کے واقعہ میں نصف درجن لوگوں کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ ان مین سے دو لوگوں منوہر ساہو اور بھولا سنگھ کو سنگین حالت میں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔