عالمی یوم القدس: حیدرآباد میں قونصل خانہ ایران کا آن لائن مشاعرہ

اس مشاعرہ کی صدارت آغا سروش نے کی اور نظامت کے فرائض پبلک ریلیشن آفیسر سید تمجید حیدر نے انجام دیئے جنہوں نے قدس کے متعلق اہم معلومات بھی پیش کیں

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: قونصل خانہ اسلامی جمہویہ ایران حیدرآباد کی جانب سے عالمی یوم القدس کی مناسبت سے آن لائن عالمی مشاعرہ کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر مشہور شعراء کرام نے مسئلہ فلسطین اور یوم القدس پر اپنا کلام پیش کیا۔ اس مشاعرہ کی صدارت آغا سروش نے کی اور نظامت کے فرائض پبلک ریلیشن آفیسر سید تمجید حیدر نے انجام دیئے جنہوں نے قدس کے متعلق اہم معلومات بھی پیش کیں، سب سے پہلے علامہ اقبال کے حمد: خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ سے مشاعرہ کا آغاز ہوا اور پھر جوش ملیح آبادی کی مشہور زمانہ نعت شریف بھی پیش کی گئی۔

اس کے بعد مشاعرہ کے پہلے شاعر، سرزمین مشہد ایران سے سید ندیم نقوی سرسوی نے اپنی خوبصورت نظم سے مشاعرہ کو بہترین آغاز بخشا۔ اس نظم کے کچھ شعراس طرح تھے:

غصب کرنے کی روایت کو بڑھاوا دے کر

تو نے آغاز کیا اپنی ہی بربادی کا

یہ زمیں قدس کے نعروں سے لرز جائے گی

وقت آنے دو فلسطین کی آزادی کا

ان کے بعد جلیل نظامی نے اپنے خوبصورت ترنم سے بہترین نظم پیش کی، جس کے چند اشعار پیش ہیں:

اے نگار چمن تیرے پالے ہوئے

بہر زخار تھے جو کھنگالے ہوئے

قوم مغضوب کے تر نوا کے ہوئے

درس عبرت بھی ہے تیری روداد غم

روشنی بھی ہے اہل نظر کے لئے

ان کے بعد علی پور کرناٹک سے تعلق رکھنے والے شاعر ناظر عابدی علی پوری نے حالات حاضرہ اور مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت میں بہترین نظم سے مشاعرہ میں ایک سماں باندھا۔ کچھ شعر پیش ہیں:

کئی دنوں سے برابر ہمیں غذا نہ ملی

کسی نے پوچھے نہ آنسو کوئی دوا نہ ملی

ہمارے حق میں کسی بھائی کی دعا نہ ملی

جفا شعار کی ہمت بڑھی سزا نہ ملی

تلاش امن میں در در کی چھان ڈالی گرد

عجب ہے کہتے ہیں کچھ لوگ مجھ کو دہشت گرد

ان کے بعد جناب سردار سلیم نے اپنے مخصوص انداز میں ارض فلسطین اور فلسطینی مظلوم عوام کو سلام پیش کیا، ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

اے فلسطین تری خاک کے ذروں کو سلام

تیرے جلتے ہوئے زخموں کی شعاؤں کو سلام

تیرے بچوں ترے بوڑھوں کو جوانوں کو سلام

ان کی رگ رگ میں مچلتے ہوئے جذبوں کو سلام

مشاعرہ کے اختتام سے پہلے صدر مشاعرہ جناب آغا سروش نے غزل کے کچھ بہترین اشعار کے ساتھ ساتھ فلسطین کے نام ایک بہترین نظم پیش کی، جس کے چند شعر ملاحظہ ہوں:

مشہور تھی دنیا میں جو عربوں کی حمیت

کیا جانے دبے پاؤں وہ کب ہوگئی رخصت

ایماں کو بہا لے گئی پٹرول کی دولت

ڈر یہ ہے کہ لٹ جائے نہ کعبے کی بھی حرمت

کیا بے ادبانہ گھسے اقصی میں یہ بے دین

اے ارض فلسطین اے ارض فلسطین

آخر میں ناظم مشاعرہ سید تمجید حیدر نے اپنی ایک امید بھری نظم خوبصورت ترنم میں پیش کی:

بربریت کی یہ شام ڈھلنے کو ہے، ظلم مٹنے کو ہے

اک عدالت کا سورج نکلنے کو ہے، ظلم مٹنے کو ہے

یہ یمن اور فلسطیں کا جو حال ہے

دین و قرآں کے دشمن کی یہ چال ہے

ان کا حربہ انہیں پر پلٹنے کو ہے، ظلم مٹنے کو ہے۔

اختتام سے قبل ناظم مشاعرہ نے قونصل خانہ اسلامی جمہوریہ ایران حیدرآباد کی جانب سے تمام شعراء کرام کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا اور اسی کے ساتھ مقامی ٹی وی اورسفیرٹی وی کے ذمہ داروں کا بھی شکریہ ادا کیا گیا، جنہوں نے اس مشاعرہ کو اپنے اپنے ٹی وی چینلوں پر پیش کیا تھا۔ یہ مشاعرہ چند کلمات دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

Published: 23 May 2020, 1:41 PM