حیدرآباد: لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سیلون تو کھل گئے لیکن گاہک ندارد

حکومت تلنگانہ نے 19 مئی کو دی گئی لاک ڈاون کی نرمی میں سیلونس اوربیوٹی پارلرس کو بھی کھولنے کی اجازت دی ہے۔ اپریل میں 36 سالہ ہیر ڈریسر چینئی میں کورونا وائرس سے متاثر پایا گیا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدر آباد: اگرچہ کہ لاک ڈاؤن میں دی گئی نرمی کے بعد شہر حیدرآبا د میں ہیئر کٹنگ سیلونس تو کھل گئے ہیں تاہم لوگ ہنوز ان دکانات کو جانے سے گریز کررہے ہیں کیونکہ ان کو خدشہ ہے کہ اگر کوئی بھی متاثرہ شخص کے بال بنوانے کے لئے استعمال کی گئی قینچی ان کے بال کاٹنے کے لئے استعمال کی گئی تو وہ بھی کورونا سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس طرح ان دکانات پر گاہک کی کمی ہوگئی ہے۔عموماً ان سیلونس میں سیاست، بگ باس اور دیگر امور پر گفتگوہوتی تھی تاہم اب یہ بھی گفتگو نہیں ہو پا رہی ہے۔

شہر کے بیگم پیٹ علاقہ کے ایک سیلون چلانے والے سرینواس نے کہا کہ وہ ایک وقت میں صرف ایک ہی گاہک کو دکان میں آنے کی اجازت دے رہا ہے۔ ساتھ ہی گاہک کے دکان میں داخل ہونے سے پہلے اس کے ہاتھ دھلائے جا رہے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ دکان کھولنے سے گریز کررہا تھا تاہم دکان کھولنا اس کی مجبوری ہے۔ اس نے کہا کہ کاروبار کے احیا کے لئے کچھ وقت ضرور لگے گا۔ سرینواس اور اس کا ساتھی راجو دونوں نے اپنے منہ پر ماسک لگایا ہوا ہے۔ راجو نے کہا کہ اگر اسی دوران کوئی بھی گاہک کھانس دے یا چھینک دے تو ان کی فکرمندی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ راجو نے کہا کہ اس وائرس کے معاملات کے سامنے آنے کے بعد سے گاہکوں کا فیشیل کرنا ہم نے چھوڑ دیا ہے۔

حکومت تلنگانہ نے 19مئی کو دی گئی لاک ڈاون کی نرمی میں سیلونس اوربیوٹی پارلرس کو بھی کھولنے کی اجازت دی ہے۔ اپریل میں 36سالہ ہیر ڈریسر چینئی میں کورونا وائرس سے متاثر پایا گیا تھا۔ سرینواس اس طرح کے خطرات سے واقف ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ کام مشکل بن گیا ہے۔ ایک طرف جہاں ہمیں یہ خوف ہے کہ کہیں گاہک بیمار تو نہیں ہے جس سے اس کی بیماری اسے لگ جائے گی تو دوسری طرف گاہک کو اس بات کی فکرمندی لگی رہتی ہے کہ کہیں اس کی قینچی سے گاہک کو کورونا نہ ہوجائے۔ شہر کی بعض ہیرسیلونس کی دکانات میں کام کرنے والوں کی بھی کمی ہوگئی ہے۔

منیجرا روڈ کی وروی ہیر بیوٹی سیلون فار ویمن کی مالک سمیتا کار نے کہا کہ ان کے پاس زیادہ گر گیٹیڈ کمیونٹی کی خواتین آتی ہیں تاہم اب اس نرمی کے بعد ایک بھی خاتون ان کے پاس نہیں آئی ہے۔ سمیتا کور نے کہا کہ وہ ماسک نہیں تو سروس نہیں کی پالیسی اختیار کررہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اسٹاف کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایک وقت میں دو سے زائد گاہکوں کو اندر آنے کی اجازت نہ دی جائے۔

ہیر کریشنس سیلون کے وی بھردواج نے دکان کھلنے سے دو دن پہلے اپنے اسٹاف کے لئے دستانوں کا آرڈر دیا تھا لیکن ابھی تک ان کے پاس کوئی بھی گاہک نہیں آیا ہے۔ صنعت نگر کے نائس ہیرکٹنگ سیلون کے مالک سنیل نے امید ظاہر کی کہ ان کے گاہک واپس آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس علاقہ میں صرف ان ہی کی سیلون کی دکان ہے۔ انہیں امید ہے کہ جلد ہی ان کے گاہک آئیں گے۔