ادارے قائم رہتے ہیں، چہرے بدلتے رہتے ہیں: ملکارجن کھڑگے
راجیہ سبھا سے سبکدوش ہونے والے اراکین کو خطاب کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ وقت کے ساتھ افراد بدلتے ہیں مگر ادارے قائم رہتے ہیں، اور عوامی خدمت کا جذبہ کبھی ختم نہیں ہوتا

نئی دہلی: راجیہ سبھا سے متعدد اراکین کی سبکدوشی کے موقع پر قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ وقت اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہتا ہے، ادارے قائم رہتے ہیں لیکن افراد کے چہرے بدلتے رہتے ہیں۔ انہوں نے سبکدوش ہونے والے اراکین اور ایوان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جو اراکین دوبارہ منتخب ہو کر آ رہے ہیں، ان کا خیر مقدم ہے، جبکہ جو یہاں سے رخصت ہو رہے ہیں، وہ عوامی زندگی میں اپنا کردار بدستور ادا کرتے رہیں گے۔
کھڑگے نے کہا کہ راجیہ سبھا کا تجربہ ہر رکن کے لیے قیمتی ہوتا ہے اور یہاں سے حاصل ہونے والی سیکھ مستقبل میں مزید بہتر خدمات انجام دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایوان کے اندر مختلف نظریات اور ریاستوں سے آنے والے اراکین کی آرا سننے کا موقع ملتا ہے، جو جمہوری عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
انہوں نے اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ راجیہ سبھا میں پہلا دور تھا اور انہوں نے 16 فروری 2022 سے قائد حزب اختلاف کی ذمہ داری سنبھالی۔ اب ان کا یہ دور مکمل ہو رہا ہے، تاہم اس دوران انہیں جو تجربات حاصل ہوئے وہ نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ایوان بالا میں ان کا تجربہ کھٹا میٹھا رہا، مگر ان کے مطابق اس ایوان کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ یہ ملک اور سماج کو بہتر سمت دے سکے۔
کھڑگے نے سبکدوش ہونے والے کئی اہم اراکین کا خصوصی طور پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ڈی دیوگوڑا، جو ملک کے وزیر اعظم سمیت کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں، ان کے ساتھ ان کا طویل تعلق رہا ہے۔ شرد پوار کو انہوں نے ایک قومی رہنما قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ وہ آگے بھی ایوان کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ تروچی شیوا کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ پارلیمانی کارروائی کے گہرے جانکار ہیں اور مستقبل میں بھی ان کی خدمات اہم رہیں گی۔
انہوں نے رام داس اٹھاولے کی منفرد شاعرانہ انداز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایوان میں اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ دگ وجے سنگھ کے بارے میں کہا کہ انہوں نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کے طور پر نمایاں خدمات انجام دیں اور راجیہ سبھا میں بھی کمیٹیوں کے ذریعے اہم کردار ادا کیا۔ کے ٹی ایس تلسی کے حوالے سے کھڑگے نے کہا کہ انہوں نے شہری آزادیوں اور آئینی مسائل پر اپنے خیالات سے ایوان کو مالا مال کیا۔
انہوں نے شکتی سنگھ گوہل، نیرج ڈانگی، رجنی پاٹل، فوزیہ خان، پرینکا چترویدی اور ساکیت گوکھلے سمیت دیگر اراکین کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ ان سب نے سنجیدگی کے ساتھ مختلف مسائل کو اٹھا کر ایوان کی وقار میں اضافہ کیا۔
کھڑگے نے نائب چیئرمین ہری ونش کی شائستگی اور متوازن رویے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے انداز کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست یا عوامی زندگی میں کوئی بھی شخص حقیقی معنوں میں سبکدوش نہیں ہوتا، کیونکہ ملک کی خدمت کا جذبہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کو زیادہ وقت ملنا چاہیے تاکہ غریبوں، کمزور طبقات، کسانوں اور مزدوروں سے جڑے مسائل پر تفصیل سے گفتگو ہو سکے۔ کئی بار ان مسائل کو تنقید سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حکومت کو عوامی خدشات کو سنجیدگی سے سننا چاہیے۔
آخر میں کھڑگے نے سبکدوش ہونے والے اراکین کے لیے ایک شعر پڑھا اور کہا کہ سب کو اپنی خدمات کے ذریعے ایسی پہچان چھوڑنی چاہیے جسے لوگ یاد رکھیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سب مل کر بھائی چارے کے ساتھ ملک کے مفاد میں کام کرتے رہیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔