ڈیزل کی قیمت میں لگاتار 18ویں دن اضافہ، دہلی میں پٹرول سے بھی ہوا مہنگا

راجدھانی دہلی میں ڈیزل کی قیمت میں 48 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اب فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 79.88 روپے ہو گئی ہے۔ دہلی میں آج پٹرول کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وبا کے دوران عوام کی مشکلات میں لگاتار اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف عوام کورونا وبا سے نبرد آزما ہے، وہیں دوسری طرف ان پر لگاتار مہنگائی کی مار پڑ رہی ہے۔ ہندوستان میں آج 18ویں دن ڈیزل کی قیمت میں اضافہ درج کیا گیا۔ راجدھانی دہلی میں ڈیزل کی قیمت میں 48 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد اب فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 79.88 روپے ہو گئی ہے۔ دہلی میں آج پٹرول کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا اور یہ قیمت 79.76 روپے فی لیٹر پر مستحکم ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو راجدھانی میں پٹرول سے زیادہ مہنگا ڈیزل ہو گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اکثر یہ کوشش رہتی ہے کہ ڈیزل کی قیمت پٹرول سے کم رہے، کیونکہ اس کا استعمال ضروری سامانوں کو ڈھونے کے لیے ٹرانسپورٹ میں کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب کسان کھیتی کے کام میں ڈیزل کا استعمال کرتے ہیں۔ ڈیزل کی قیمت بڑھانے کا چوطرفہ اثر ہوتا ہے۔ اس سے ٹرانسپورٹ کی لاگت بڑھ جائے گی اور مہنگائی بھی بڑھے گی۔ اس طرح دیکھا جائے تو عوام پر دوہری مار پڑے گی۔ ایک طرف ٹرانسپورٹ کے لیے زیادہ کرایہ دینا ہوگا اور ساتھ ہی اسے مہنگے سامان بھی خریدنے پڑیں گے۔ اس کا آٹو سیکٹر کی فروخت پر بھی کافی سنگین اثر پڑے گا۔

ہندوستانی عوام کورونا وبا کے ساتھ معاشی سطح پر بھی پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ کورونا وبا میں لاکھوں لوگوں کی ملازمت چلی گئی ہے۔ لوگ حکومت سے راحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ راحت ملنے کی جگہ لوگوں کو تیل کی شکل میں مہنگائی کا لگاتار جھٹکا لگا رہا ہے۔ لگاتار تیل کی قیمتوں میں ہو رہے اضافے سے لوگ ناراض ہیں۔ اپوزیشن لگاتار حکومت سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ تیل کی بڑھتی قیمتوں پر لگام کسے۔ کانگریس کئی بار مرکزی حکومت سے تیل کی بڑھتی قیمتوں سے عوام پر پڑ رہی مہنگائی کی مار کا حوالہ دیتے ہوئے تیل کی قیمت گھٹانے کا مطالبہ کر چکی ہے، لیکن مرکز کی مودی حکومت اس تعلق سے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

next