اندور آلودہ پانی سانحہ: مدھیہ پردیش حکومت نے ہائی کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کی، 4 اموات کا دعویٰ
اندور آلودہ پانی سانحہ پر مدھیہ پردیش حکومت نے ہائی کورٹ کی اندور بنچ میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کر دی، جس میں چار اموات اور تقریباً 200 افراد کے اسپتال میں زیرِ علاج ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے

اندور میں آلودہ پینے کے پانی سے پیدا ہونے والے سنگین عوامی صحت کے بحران پر مدھیہ پردیش حکومت نے جمعہ کے روز مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کر دی ہے۔ حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تقریباً 15 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں سرکاری طور پر یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آلودہ پانی پینے سے 4 افراد کی موت ہوئی ہے، جبکہ قریب 200 افراد مختلف اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے 35 مریض انتہائی نگہداشت یونٹ میں داخل ہیں۔
یہ معاملہ اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی کی فراہمی کے خلاف دائر کی گئی ایک عوامی مفاد کی عرضی سے جڑا ہے، جسے اندور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ رتیش انانی نے داخل کیا تھا۔ اس مقدمے کی سماعت جسٹس دوارکادھیش بنسل اور جسٹس راجندر کمار وانی پر مشتمل ڈویژن بنچ کے روبرو ہوئی۔
سماعت کے دوران حکومت نے عدالت کو بتایا کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے طبی اور انتظامی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں پانی کی متبادل فراہمی جاری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرین کو مختلف سرکاری و نجی اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے اور سنگین حالت والے مریضوں کو آئی سی یو میں رکھا گیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 6 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔
درخواست گزار رتییش انانی نے عدالت میں حکومت کی اسٹیٹس رپورٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ عجلت میں تیار کی گئی ہے اور زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتی۔ ان کے مطابق حکومت نے اموات کی تعداد کو محدود ظاہر کیا ہے، جبکہ مقامی سطح پر صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین بتائی جا رہی ہے۔ عدالت کے روبرو یہ مؤقف بھی رکھا گیا کہ عوامی صحت کے اس بحران میں شفاف معلومات کی فراہمی بے حد ضروری ہے۔
سماعت کے دوران ایک مداخلت کار نے عدالت سے درخواست کی کہ مبینہ غلط معلومات کو روکنے کے لیے اس معاملے پر میڈیا میں اشاعت پر پابندی عائد کی جائے، تاہم بنچ نے اس مطالبے پر فی الحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ سماعت تک صورتحال پر قابو پانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے اور متاثرہ شہریوں کو مناسب طبی سہولتیں فراہم کرے۔
سرکاری طور پر اگرچہ چار اموات کی تصدیق کی گئی ہے، لیکن مختلف رپورٹس میں مرنے والوں کی تعداد پندرہ تک بتائی جا رہی ہے، جس سے انتظامیہ کے دعوؤں پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ حکام کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال کے دوران ٹینکروں کے ذریعے صاف پانی کی سپلائی مسلسل جاری رکھی جائے اور متاثرہ علاقوں میں طبی نگرانی سخت کی جائے۔
قابلِ ذکر ہے کہ مسلسل 8 برس تک ملک کا صاف ترین شہر قرار پانے والا اندور اس وقت ایک شدید عوامی صحت بحران سے گزر رہا ہے۔ بھاگیرتھ پورہ علاقے میں ایک عوامی بیت الخلا کے قریب پائپ لائن میں رِساؤ کے باعث سیوریج کا پانی شہری سپلائی میں شامل ہو گیا، جس کے نتیجے میں شدید دست، الٹی اور ڈی ہائیڈریشن کے کیس سامنے آئے۔ اس صورتحال نے شہری انتظامیہ کی تیاری اور ذمہ داری پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔