ہندوستان کے ’چھاتروں کی گونج‘ آخر کار گھمنڈی حکومت کی دہلیز تک پہنچ گئی: کھڑگے

وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے بعد کانگریس صدر نے کہا کہ ’’اب باری ہے مودی جی کو ہماری نوجوان نسل سے معافی مانگنے کی، اور جنھوں نے ان پر لاٹھی، ڈنڈے، پیلیٹ گن چلوائی ہے، ان پر سخت کارروائی کرنے کی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی خبر سن کر جشن مناتے ہوئے نوجوان مظاہرین، تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>
i

’’ہندوستان کے ’چھاتروں کی گونج‘ آخر کار گھمنڈی حکومت کی دہلیز تک پہنچ گئی۔ یہ ہمارے کروڑوں نوجوانوں کی جیت ہے، جنھوں نے ملک بھر میں تعلیمی نظام کو درست کرنے کے لیے سڑک پر آواز اٹھائی۔ یہ سچائی کی فتح ہے اور مودی جی کے ضد کی شکست ہے۔ یہ ان سبھی کنبوں کی جیت ہے جنھوں نے اپنے خون، اپنے بچوں کو کھویا، کیونکہ یہ حکومت بدعنوان ہے۔‘‘ یہ بیان کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد دیا ہے۔

ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنا یہ رد عمل ظاہر کیا، اور وزیر تعلیم پر استعفیٰ کا دباؤ بنانے کے لیے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ کو بھی مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ مشترکہ اپوزیشن کی جیت ہے، جنھوں نے طلبا کے مفاد میں پارلیمنٹ سے سڑک تک آواز اٹھائی۔‘‘ ساتھ ہی وہ لکھتے ہیں کہ ’’اب باری ہے مودی جی کو ہماری نوجوان نسل سے معافی مانگنے کی، اور جنھوں نے ان پر لاٹھی، ڈنڈے، پیلیٹ گن چلوائی ہے، ان پر سخت کارروائی کرنے کی۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے آج اپنا استعفیٰ نامہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیج دیا، اور اس کے بعد اپنے استعفیٰ کی جانکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کی۔ استعفیٰ کی خبر پھیلتے ہی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران کا رد عمل آنا بھی شروع ہو گیا۔ شیوسینا یو بی ٹی رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کو مودی-شاہ کے لیے بھی ایک اشارہ بتایا ہے۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ صرف آغاز ہے۔ مودی-شاہ بھی غیر مفتوح نہیں ہیں، وہ بھی جائیں گے۔‘‘

تعلیمی نظام میں بے ضابطگی کا ذکر کرتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ پیپر لیک سے شروع ہوئی یہ لڑائی اب پورے سسٹم کی جوابدہی کی لڑائی بن چکی ہے۔ انھوں نے نوجوانوں اور طلبا کی تحریک کو مبارکباد بھی پیش کی، اور کہا کہ کروڑوں نوجوانوں نے اپنی طاقت سے ثابت کر دیا کہ جمہوریت میں عوام کی آواز سب سے اوپر ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔