دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نوجوانوں کی جیت ہے، ہندوستان کے جین-زی کی جیت ہے: کانگریس
کانگریس نے کہا کہ نیٹ پیپر لیک ہونے کے پہلے دن سے ہی حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک نوجوانوں کو انصاف دلانے کے لیے لڑ رہے ہیں۔

مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی خبر پر کانگریس نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے نوجوانوں کی جیت قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نوجوانوں کی جیت ہے، ہندوستان کے جین-زی کی جیت ہے۔ یہ جیت ان کروڑوں نوجوانوں کی ہے، جنھوں نے ملک بھر میں تعلیمی نظام کو درست کرنے کے لیے آواز بلند کی۔‘‘
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کو کانگریس نے پی ایم مودی کے ’تکبر کا ٹوٹنا‘ بتایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’نوجوانوں کے ’ستیہ‘ (سچائی) کے سامنے نریندر مودی کا گھمنڈ ٹوٹ گیا ہے، ان کے جھوٹ کی شکست ہوئی ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’’نوجوانوں نے ایک نااہل اور بدعنوان وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ مظاہرین طلبا اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی قیادت میں کانگریس لیڈران و کارکنان کئی ہفتوں سے کر رہے تھے۔ شدید دباؤ کے بعد آج جب وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا، تو کانگریس نے اسے ایک بہت بڑی کامیابی ٹھہرایا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’نیٹ پیپر لیک ہونے کے پہلے دن سے ہی حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی اور کانگریس پارٹی سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک نوجوانوں کو انصاف دلانے کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ آگے بھی جاری رہے گی، جب تک تعلیمی نظام میں اصلاح نہیں ہو جاتا۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں کانگریس نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’نریندر مودی کو ہمارے نوجوانوں پر لاٹھی چلوانے، پیلیٹ گن سے حملہ کرنے کے لیے معافی مانگنی ہی ہوگی۔‘‘
کانگریس کے سینئر لیڈر کے سی وینوگوپال نے بھی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کو ہندوستان کے نوجوانوں کی فتح قرار دیا ہے۔ انھوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ہندوستانی نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’آپ کی طاقت نے نااہل، بدعنوان اور قصوروار دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ یہ عوام کی فتح ہے، ان تمام لوگوں کی جیت ہے جنہوں نے ہمارے نظام میں جوابدہی کے لیے جدوجہد کی۔‘‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنی پوسٹ میں وینوگوپال نے لکھا ہے کہ ’’جس لمحہ سے نیٹ کا پرچہ لیک ہوا، کانگریس اور خصوصاً راہل گاندھی ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اپوزیشن متحد ہو کر اس احتجاج کی قیادت کر رہی تھی اور سبھی کا مشترکہ مطالبہ جوابدہی تھا۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’ہمارے دیگر مطالبات میں ان لوگوں کو سزا دینا بھی شامل ہے جنہوں نے ہمارے طلبا پر حملہ کیا، اور طلبا کو درپیش مظالم پر وزیر اعظم کی جانب سے معافی مانگنا بھی۔‘‘
کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال نے تعلیمی شعبے میں اصلاحات کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جب تک ہم نظام میں انصاف نہیں لاتے، طلبا کو درپیش دباؤ کو کم نہیں کرتے اور تعلیم کے معیار کو بہتر نہیں بناتے، ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔‘‘ آخر میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’ملک بھر کے ان کروڑوں طلبا کو زبردست سلام، جنہوں نے اس حکومت کو اپنی مرضی کے آگے جھکنے پر مجبور کر دیا، اور راہل گاندھی کو بھی سلام، جو ان کے مقصد کے سب سے زیادہ پُرجوش، مخلص اور پُرعزم حامی بن کر کھڑے رہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
