مودی حکومت کانگریس اور جین-زی کے آگے جھکنے کو ہوئی مجبور، وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے دیا استعفیٰ
دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ نامہ میں لکھا ہے کہ ’’میں ملک کے نوجوانوں کی امیدوں، جذبات اور ان کی منصفانہ خواہشات کا احترام کرتا ہوں۔ ہندوستان کی نوجوان نسل کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنا ہمارا عزم ہے۔

’جین-زی‘ نے آج ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ وہ چاہیں تو کسی بھی تاناشاہی کو جھکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ جین-زی اور کانگریس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن پارٹیوں کا سخت دباؤ ہی تھا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفیٰ دینا ہی پڑا۔ یعنی مودی حکومت جھکنے کو مجبور ہوئی اور کئی ہفتوں سے جاری طلبا کی تحریک کے ساتھ ساتھ راہل گاندھی کی قیادت میں چل رہی ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کو بھی ایک بڑی کامیابی ملی۔
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ کی جانکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر دی ہے۔ انھوں نے اپنی پوسٹ میں نوجوانوں کے نام ایک خط لکھا ہے، جس میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر اور ملک میں جو حالات بنے ہیں، اس کا ملک مخالف طاقتیں فائدہ نہ اٹھائیں اس لیے استعفیٰ کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ملک میں یکجہتی بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے ایک نوٹ پوسٹ کیا ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’میں گزشتہ 4 دہائیوں سے زیادہ مدت سے طلبا، اساتذہ اور تعلیمی اصلاح کے لیے وقف رہا ہوں۔ میرا ہمیشہ ہی بھروسہ رہا ہے کہ ایک مضبوط، مجموعی اور دور اندیش تعلیمی نظام ہی مضبوط ملک کی بنیاد ہوتی ہے۔
نوجوانوں کے نام لکھے اپنے نوٹ میں انھوں نے اپنے جذبات کا اظہار نہایت سلیقے سے کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’میں ملک کے نوجوانوں کی امیدوں، جذبات اور ان کے منصفانہ خواہشات کا احترام کرتا ہوں۔ ہندوستان کی نوجوان نسل کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنا ہم سبھی کی سیاسی و سماجی زندگی کا اخلاقی عزم رہا ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’عزت مآب وزیر اعظم کی دور اندیشی بھری قیادت میں ملک کی خدمت کرنے کا جو موقع مجھے ملا، اس کے لیے میں وزیر اعظم کا بے حد مشکور ہوں۔‘‘
اپنا استعفیٰ نامہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بھیجنے کے بعد سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹ میں وہ پیپر لیک معاملے پر کچھ وضاحت پیش کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’3 مئی 2026 کو منعقد نیٹ-یوجی امتحان میں بے ضابطگیوں کی شکایتیں سامنے آتے ہی حکومت نے فوراً کارروائی کی۔ اس معاملے کی جانچ سی بی آئی کو سونپی گئی، امتحان منسوخ کر دوبارہ امتحان کرانے کا فیصلہ لیا گیا اور آئندہ سال سے نیٹ کو پوری طرح کمپیوٹر پر مبنی (سی بی ٹی موڈ) بنانے کا اعلان کیا گیا۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ 20 لاکھ سے زیادہ طلبا کا امتحان غیر جانبدار اور بہتر انداز سے کرانا ان کی اعلیٰ ترجیح تھی۔ اس کے لیے مرکزی حکومت، ریاستی حکومتوں، ضلع انتظامیہ، طلبا و سرپرستوں کے تعاون سے 21 جون 2026 کو دوبارہ امتحان کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ 16 جولائی کو سامنے آئے نتائج میں غریب و محروم کنبوں کے کئی باصلاحیت طلبا کو کامیابی ملی، لیکن کچھ ذمہ دار عہدوں پر بیٹھے لوگوں نے طلبا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، جس سے انھیں بہت تکلیف پہنچی۔
اپنے استعفیٰ پر دھرمیندر پردھان نے کہا کہ گزشتہ 10 دنوں کے واقعات نے انھیں بے حد پریشان کیا ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ یہ ان کے ذاتی وقار کا موضوع نہیں، بلکہ ملک کے نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ طلبا کا مستقبل قانونی تنازعات اور سیاسی تصادم میں الجھے، یا ان کی توجہ پڑھائی سے بھٹکے۔ اسی جذبہ کے ساتھ انھوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ لیا۔
