ہندوستان نے ’طالبان حکومت‘ کو ماننے سے کیا انکار، خواتین کے حالات پر فکرمند

ہندوستان کے مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ’’افغانستان میں خواتین اور اقلیتی طبقہ کے حالات قابل افسوس ہیں، جو کچھ وہاں ہو رہا ہے اسے مناسب نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔‘‘

ایس جے شنکر / یو این آئی
ایس جے شنکر / یو این آئی
user

تنویر

افغانستان میں طالبان کے ذریعہ حکومت تشکیل دیے جانے کے اعلان کے بعد پہلی بار ہندوستان نے کھل کر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے اس حکومت کو ماننے سے صاف لفظوں میں انکار کر دیا ہے۔ ہفتہ کے روز ہندوستان کے مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے صاف کر دیا کہ وہ طالبان کی نئی حکومت کو ایک انتظام (ڈسپنسیشن) سے زیادہ کچھ نہیں مانتے ہیں، او راس میں بھی سبھی طبقات کو شامل نہ ہونے سے فکرمند ہیں۔ ایس جے شنکر نے افغانستان میں خواتین اور اقلیتی طبقہ کے حالات پر بھی افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ مناسب نہیں۔

مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے افغانستان کی نئی حکومت کے تعلق سے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی زمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں ہندوستان نے آسٹریلیا سے اقوام متحدہ کے 2593 بل کو نافذ کرنے سے متعلق بات کی۔ اس بل کے تحت کسی بھی ملک کو دہشت گردی کو فروغ دینے سے روکنے پر زور دیا جاتا ہے۔ ہفتہ کے روز ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان ہوئی ٹو پلس ٹو میٹنگ کے بعد وزیر خارجہ نے میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں سامنے رکھیں۔


جے شنکر نے بتایا کہ آسٹریلیا کے ساتھ ٹو پلس ٹو میٹنگ میں افغانستان میں ڈسپنسیشن (انتظام) یعنی مشمولہ حکومت اور خواتین و اقلیتوں کے حالات پر بات چیت ہوئی۔ اس دوران آسٹریلیا کی وزیر خارجہ میری پائن نے بھی کہا کہ افغانستان کی زمین کو دہشت گردی کی پیداوار کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ افغانستان میں انسانی امداد کو لے کر انھوں نے ٹو پلس ٹو میٹنگ میں ہندوستان سے تبادلہ خیال کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔