جے رام رمیش نے دیا ’پائیدار، جامع اور تیز رفتار ترقی‘ کا منتر، کہا ’یہ بنے گا مستقبل کی پالیسیوں کی بنیاد‘

جے رام رمیش نے کہا کہ سوشلسٹوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نہ تو 6 ماہ ساتھ رہ سکتے ہیں اور نہ ہی 6 ماہ الگ۔ یہی وجہ ہے کہ سوشلسٹ تحریک کئی حصوں میں تقسیم ہوئی۔

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے جمعرات کو کہا کہ ’ایس آئی آر‘ یعنی پائیدار، جامع اور تیز رفتار ترقی ہی پالیسی سازی کی اہم بنیاد ہوگا۔ کوزی کوڈ میں ایم پی ویریندر کمار میموریل لیکچر دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بات سے قطع نظر کہ کوئی بھی پارٹی اقتدار میں ہے، ملک کو اگلے 10 سے 15 سالوں میں ان 3 بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا ہو گا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایس‘ کا مطلب پائیدار ترقی ہے جو ماحول دوست ہو۔’آئی‘ کا مطلب جامع ترقی ہے، اس بات کو یقینی بنانا کہ ترقی کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں، نہ کہ صرف چند لوگوں تک۔ ’آر‘ کا مطلب تیز رفتار ترقی ہے جو ہر سال نوکری –کی تلاش میں آنے والے 70 سے 80 لاکھ ہندوستانیوں کے لیے روزگار پیدا کرسکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیات کو ترقی کے ساتھ مربوط کرنا، امیر غریب کے فرق کو کم کرنا اور روزگار کے لیے معیشت کو وسعت دینا مستقبل کی ترجیحات ہوں گی۔


جے رام رمیش نے ویریندر کمار کے ساتھ اپنے تقریباً 30 سالہ تعلقات کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب وریندر کمار مرکزی وزیر مملکت برائے خزانہ بنے تھے۔ انہوں نے ایک مزاحیہ واقعہ بھی سنایا کہ کس طرح وریندر کمار خود کو ’ڈبل ایم پی‘ کہتے تھے کیونکہ ان کے نام کی شروعات میں بھی ’ایم پی‘ آتتھا۔

انہوں نے ہندوستانی سوشلسٹ روایت کے بارے میں بھی بات کی۔ کانگریس کے سینئر لیڈر نے جے پرکاش نارائن، رام منوہر لوہیا اور کملا دیوی چٹوپادھیائے کا ذکر کیا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ سوشلسٹوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ نہ تو 6 ماہ ساتھ رہ سکتے ہیں اور نہ ہی 6 ماہ الگ۔  یہی وجہ ہے کہ سوشلسٹ تحریک کئی حصوں میں تقسیم ہوئی۔ جیسے کانگریس سوشلسٹ پارٹی سے لے کر جے ڈی (یو) تک۔ انہوں نے کہا کہ سوشلسٹ روایت جو اقتدار کے بجائے اقدار اور عوامی جدوجہد کے لیے جانی جاتی تھی، جو اب آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے۔


آخر میں انہوں نے ہندوستان کے تنوع پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ایسا مذہبی، لسانی اور ثقافتی تنوع ہے جتنا دنیا کے کسی اور ملک میں نہیں ہے۔ سوویت یونین اور یوگوسلاویہ جیسے ممالک کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے تنوع کے باوجود زندہ رہنے میں ناکام رہے۔ ہندوستان اس لیے قائم رہا کیونکہ ہمارا آئین نہ صرف تنوع کا احترام کرتا ہے بلکہ اس کا جشن بھی مناتا ہے۔ وریندر کمار کی زندگی بھی یہی پیغام دیتی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔