حکومت کی پیپر لیک مافیا سے ملی بھگت، این ٹی اے امتحانات کی بے ضابطگیاں دبائی جا رہی ہیں: جے رام رمیش
جے رام رمیش نے نیٹ 2026 سے متعلق حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی پر سنگین سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امتحانی بے ضابطگیوں اور پیپر لیک معاملوں کو مسلسل دبایا جا رہا ہے

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے نیٹ-یو جی 2026 امتحان کو لے کر مرکزی حکومت اور نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ 2018 میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے قیام کے بعد سے امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے معاملوں کو دبانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اس کا پورا نظام پیپر لیک مافیا کے ساتھ ملی بھگت کر کے حقیقت کو چھپانے میں لگا ہوا ہے۔
جے رام رمیش نے اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل نے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے دعویٰ کیا کہ نیٹ-یو جی 2026 امتحان کا پیپر لیک نہیں ہوا۔ انہوں نے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو یہ حیران کن اور شرمناک بات ہے، کیونکہ مبینہ طور پر ایک ایسا گیس پیپر امتحان سے کافی پہلے طلبا کے درمیان گردش کر رہا تھا، جس میں اصل امتحان میں شامل کئی سوال موجود تھے۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر امتحانی سوالات پہلے سے گردش میں تھے تو اسے پیپر لیک کیوں نہیں مانا جا رہا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اس معاملے کو نظر انداز کرنے یا اس سے انکار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کانگریس لیڈر نے نیٹ-یو جی 2024 امتحان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی امتحانی بے ضابطگیوں کے معاملے سامنے آئے تھے، لیکن ان کے مطابق حکومت نے مناسب کارروائی کے بجائے معاملے کو دبانے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت سخت اقدامات کیے جاتے تو نیٹ 2026 سے متعلق موجودہ تنازعہ سے بچا جا سکتا تھا۔
جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ 2024 میں جن علاقوں کے نام امتحانی دھاندلی سے متعلق خبروں میں سامنے آئے تھے، وہی مقامات 2026 کے تنازعے میں بھی زیر بحث ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر راجستھان کے سیکر کا ذکر کیا۔
انہوں نے یو جی سی-نیٹ 2024 امتحان کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ مرکزی جانچ بیورو کی جانب سے بے ضابطگیوں سے انکار اور کلوزر رپورٹ داخل کیے جانے سے شفافیت پر سوال پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جانچ ایجنسیوں کا رویہ انصاف کی امید کو کمزور کرتا ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ ملک کے لاکھوں نوجوانوں کے لیے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی اب ایک اعتماد کے بحران کی علامت بن چکی ہے۔ انہوں نے تعلیمی نظام، ادارہ جاتی کام کاج اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم اور مرکزی تعلیمی قیادت کو اس پورے معاملے کے لیے جوابدہ قرار دیا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
