چین سے نہیں بیٹھنے دے گی حکومت، تنخواہ کٹوتی کے بعد پھر جیب کاٹنے کی تیاری

کورونا وائرس کی وجہ سے کروڑوں لوگوں کا روزگار ختم ہو گیا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک کی تقریباً سبھی کاروباری سرگرمیاں بند پڑی ہیں۔ اس درمیان عوام پر حکومت کی طرف سے دوہری مار پڑنے والی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

کورونا وائرس کی وجہ سے کروڑوں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہندوستان کی تقریباً سبھی کاروباری سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہوئی ہیں۔ اس درمیان مودی حکومت کی طرف سے عوام کو دوہری مار برداشت کرنی پڑ رہی ہے۔ مرکزی اور کئی ریاستی حکومتوں نے ملازمین کی تنخواہ میں پہلے ہی کٹوتی کر دی ہے، اب سیس وصولنے کی قواعد بھی شروع ہو گئی ہے۔ کئی ریاستیں پٹرول-ڈیزل پر سیس لگانے کی تیاری میں ہیں۔ کچھ ریاستوں نے تو اس کی شروعات بھی کر دی ہے۔ ناگالینڈ حکومت پٹرول-ڈیزل پر سیس وصول رہی ہے۔ ناگالینڈ میں 28 اپریل کو نصف شب سے ہی ڈیزل اور پٹرول پر سیس نافذ ہو گیا ہے۔ یہ سیس موجودہ ٹیکس اور سیس کے علاوہ ہوگا۔ صوبہ کے ایڈیشنل چیف سکریٹری اور فائنانس کمشنر سینٹیانگیر امچین کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اب ڈیزل پر 5 روپے اور پٹرول پر 6 روپے کا اضافی کورونا سیس وصولا جائے گا۔

حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ "ٹیکسیشن ایکٹ 1967 کے تحت سیکشن 3 اے کے سب سیکشن 3 کا استعمال کرتے ہوئے ناگالینڈ کے گورنر نے ریاست میں کووڈ-19 سیس کو بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔" بتا دیں کہ اس مہینے کی شروعات میں ہی ناگالینڈ کی پڑوسی ریاستوں آسام اور میگھالیہ نے بھی پٹرول اور ڈیزل پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا تھا۔ یہی نہیں مرکزی حکومت نے بھی خزانہ بڑھانے کے مقصد سے گزشتہ مہینے پٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی 3 روپے فی لیٹر بڑھا دی تھی۔ قابل ذکر یہ ہے کہ دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتیں ریکارڈ گراوٹ کے دور میں ہیں، پھر بھی ہندوستانی عوام اضافی قیمت دینے کے لیے مجبور ہے۔

ایک طرف جہاں دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آئی ہے، وہیں ہندوستان میں اس کے برعکس تیل کی قیمتیں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ گزشتہ مہینے ہی حکومت نے پٹرول و ڈیزل پر پروڈکشن چارج میں 8 روپے فی لیٹر تک کا اضافہ کرنے کا اختیار حاصل کر لیا تھا۔ اس ترمیم کے بعد حکومت کبھی بھی پٹرول پر اضافی اسپیشل پروڈکشن چارج کو فی لیٹر 10 روپے سے بڑھا کر 18 روپے اور ڈیزل پر 4 روپے سے بڑھا کر 12 روپے فی لیٹر تک کر سکتی ہے۔

حالانکہ اس کے بعد بھی حکومت ہند اور ریاستی حکومتیں عوام کو ڈیزل و پٹرول کی خرید میں کوئی راحت دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اس کی جگہ حکومتیں ٹیکس میں اضافہ کر اپنی جھولی بھرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ کورونا سے نمٹنے کے لیے ضروری فنڈ کا انتظام کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے اپنے 1.5 کروڑ ملازمین اور پنشنروں کے ڈی اے میں اضافہ کے فیصلے پر پہلے ہی روک لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ جولائی 2021 تک بھتے میں اضافہ نہ کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ مرکز کے اس اعلان کے بعد اتر پردیش سے لے کر کیرالہ تک میں حکومتوں نے تنخواہ کاٹنے اور مہنگائی بھتے میں روک لگانے جیسے فیصلے کیے ہیں۔ گویا کہ بے چارے عوام مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی دوہری مار برداشت کرنے کے لیے مجبور ہیں۔

Published: 29 Apr 2020, 8:11 PM
next