کسانوں اور زرعی بحران کے مطالعہ کے لیے خود مختار کسان کمیشن بنانے کا اعلان

سینئر صحافی پی سائی ناتھ نے اعلان کیا ہے کہ کسانوں کے مسائل اور زرعی شعبہ کے بحران کی حقیقی حالت کو سمجھنے کے لیے ایک خود مختار کمیشن کی تشکیل ہوگی، جو اپنی سفارشات حکومت کے سامنے پیش کرے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوستان میں زرعی بحران کی حقیقی صورت حال کو سمجھنے کے لیے ایک خود مختار کسان کمیشن کی تشکیل کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ یہ اعلان وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ تین متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے اعلان کے کچھ دنوں بعد مشہور و معروف صحافی اور ’دی ہندو‘ کے سابق دیہی مدیر پی سائی ناتھ نے کیا ہے۔

جمعرات کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی سائی ناتھ نے کہا کہ اس کمیشن میں ماہر زراعت، سائنسداں، سماجی کارکن اور کسان یونینوں کے اراکین شامل ہوں گے۔ یہ کمیشن زرعی شعبہ کی موجودہ حالت اور اس کے سامنے آئے بحران کا مطالعہ کرے گا۔ اس پریس کانفرنس کے دوران پی سائی ناتھ کے ساتھ سماجی کارکن نکھل ڈے اور دیگر لوگ بھی موجود تھے۔

سائی ناتھ نے کہا کہ ’’آخر کسان کمیشن کی ضرورت کیوں ہے؟ وہ اس لیے کیونکہ حکومت کے ذریعہ بنائے کمیشن کی اہمیت اس وقت ختم ہو جاتی ہے جب اس کی سفارشات حکومت اور کارپوریٹ مفادات کے خلاف ہوتی ہیں۔‘‘


نیشنل فار فارمر نام کے ادارہ نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کسان کمیشن ملک بھر کے کسانوں اور زراعت سے جڑے اداروں کے تعاون سے عوامی جانچ کا عمل منعقد کرے گا۔ نیشن فار فارمر ادارہ کی تشکیل کسانوں کی حمایت کے لیے سول سوسائٹی کے اراکین نے کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’مقصد کھیتی کسانی میں بڑی تبدیلی کے لیے ایک مضبوط نظریہ اور پالیسی بنانا ہے جس میں کسان تنظیموں کی سرگرم شراکت داری ہوگی۔ ساتھ ہی ماحولیات کے استحکام، اناج کا تنوع، ایکویٹی کی سیاست کے ایجنڈے کو انٹگریٹ کرنے کی کوشش ہوگی۔

مختلف حکومتوں کے ذریعہ کسانوں کو نظر انداز کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے پی سائی ناتھ نے کہا کہ سوامی ناتھن کمیشن کی سفارشات آج 16 سال بعد بھی نافذ نہیں ہو سکی ہے۔ نیشن فار فارمر نے کہا کہ ’’کمیشن کی سفارشات آج بھی ملک کے ہر گوشے میں کسانوں کے درمیان مقبول ہیں۔ ان میں سے کچھ جو ایم ایس پی طے کرنے کے فارمولے سے جڑی ہیں ان پر فوراً غور کرنا چاہیے۔‘‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’سوامی ناتھن کمیشن نے اپنی پہلی رپورٹ 16 سال قبل حکومت کو سونپی تھی، لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔‘‘ ادارہ نے حکومت سے اس ایشو پر پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ اس رپورٹ پر بحث ہو اور گزشتہ دو دہائی کے دوران کسانوں کے لیے جان لیوا بنے زرعی بحران کا حل نکل سکے۔ ادارہ نے کہا کہ کسان کمیشن ان ایشوز پر سفارشات حکومت کے سامنے رکھے گا جس سے ملک کے کسانوں کو صحیح معنوں میں فائدہ ملے گا اور زرعی مزدوروں کی زندگی میں بہتری آئے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔