اندور شیلٹر ہوم میں 6 بچوں کی موت کا معاملہ، کانگریس کا ذمہ داران پر ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

کانگریس ایم ایل اے ہیرالال الاوا نے کہا کہ شیلٹر ہوم کے بچے جسمانی اور ذہنی طور پر بہت کمزور ہیں۔ ہم نے تحقیق میں پایا کہ ان کی دیکھ بھال میں سنگین غفلت برتی گئی جس کی وجہ سے 6 بچوں کی جان چلی گئی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/ سوشل میڈیا</p></div>

تصویر/ سوشل میڈیا

user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش کانگریس نے اندور کے ایک شیلٹر ہوم میں 6 بچوں کی موت کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس نے یہ مطالبہ اپنی تحقیقاتی ٹیم کے شری یوگ پروش دھام بال آشرم کا دورہ کرنے اور وہاں کے حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا ہے۔ کانگریس کی تحقیقاتی ٹیم نے شیلٹر ہوم میں ہیضہ پھیلنے کے بعد چاچا نہرو چلڈرن ہسپتال میں داخل بچوں کی حالت کے بارے میں تفتیش کی۔

کانگریس ایم ایل اے ہیرالال الاوا نے کہا کہ شیلٹر ہوم کے بچے جسمانی اور ذہنی طور پر بہت کمزور ہیں۔ ہماری تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کی دیکھ بھال میں سنگین غفلت برتی گئی جس کی وجہ سے 6 بچے جان کی بازی ہار گئے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ موت کے ذمہ دار شیلٹر ہوم چلانے والوں اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔ ایم ایل اے الاوا نے مزید کہا ہے کہ ایف آئی آر درج نہ کرنا ظاہر کرتا ہے کہ ریاستی حکومت معاملے کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس کے صحت اور میڈیکل سیل کے ریاستی سکریٹری ڈاکٹر آدتیہ پنڈت اور پارٹی کی مقامی یونٹ کے صدر سرجیت سنگھ چڈھا بھی اس تحقیقاتی ٹیم میں شامل تھے۔


اس معاملے میں حکام کا کہنا ہے کہ یکم سے 2 جولائی کے درمیان چار بچوں کی ہیضہ کی وجہ سے موت ہو گئی جبکہ ایک بچہ 30 جون کو برین اسٹروک سے مر گیا۔ حکام نے بتایا کہ شیلٹر ہوم میں 29 اور 30 ​​جون کی درمیانی شب ایک اور بچے کی موت ہوئی تاہم شیلٹر انتظامیہ نے بچے کی موت کے بارے میں انتظامیہ کو آگاہ نہیں کیا۔ لاش لواحقین کے حوالے کر دی گئی جنہوں نے اس کی آخری رسومات ادا کر دیں۔

حکام کے مطابق شیلٹر  انتظامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ بچے کی موت مرگی کے باعث ہوئی تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے تشکیل دی گئی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ آشرم نے اپنی صلاحیت سے زیادہ بچوں کو اپنے شیلٹر ہوم میں رکھا۔ بچوں کا میڈیکل ریکارڈ درست طریقے سے برقرار نہیں رکھا گیا تھا جبکہ ان کی دیکھ بھال میں دیگر بھی کئی بے ضابطگیاں تھیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔