’نئے ہندوستان‘ میں فسادیوں کی جگہ امن کی بات کرنے والوں کے خلاف درج ہوتی ہے ایف آئی آر: عمران پرتاپ گڑھی

بی جے پی والے نہرو جی، اندرا جی کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتے ہیں، لیکن وہ یاد رکھیں... نہرو جی کا نام ’آئنسٹائن‘ کے ساتھ لیا جاتا ہے اور نریندر مودی کا نام ’ایپسٹین‘ کے ساتھ۔

<div class="paragraphs"><p>راجیہ سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی، ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی تقریر پر راجیہ سبھا میں شکریہ کی تحریک کے دوران کانگریس لیڈر عمران پرتاپ گڑھی نے ایوان بالا کے سامنے ملک کے تازہ حالات رکھ کر برسراقتدار طبقہ کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز کچھ اس الفاظ میں کیا ’’جب پارلیمنٹ کے گلیاروں میں حکومت کی تعریف کرتی ہوئی عزت مآب صدر جمہوریہ کی آواز گونج رہی تھی، تو ہسدیو کے جنگلوں میں قبائلیوں کو زندگی دینے والے درختوں پر کلہاڑی کی آواز میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ ایک طرف صدر محترم کی تقریر پر وزیر اعظم میز تھپتھپا رہے تھے، دوسری طرف اتراکھنڈ کی انکیتا بھنڈاری کو انصاف دلانے کے لیے آواز مدھم ہو رہی تھی اور پوچھ رہی تھی کہ وہ کون وی آئی پی ہے، جس کے لیے انکیتا بھنڈاری کا قتل کر دیا گیا۔‘‘

عمران پرتاپ گڑھی نے راجیہ سبھا میں اپنی آواز مضبوطی کے ساتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ’’یہاں صدر محترم سماجی انصاف کی بات کر رہی تھیں، اُدھر اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں نفرتی لوگوں سے بزرگ کو بچانے والے دیپک کے خلاف پولیس سنگین دفعات میں مقدمہ درج کر رہی تھی۔ بی جے پی کے ’نئے ہندوستان‘ میں فسادیوں کے خلاف ایف آئی آر نہیں ہوتی، بلکہ امن و محبت کی بات کرنے والوں پر ایف آئی آر ہوتی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ’’آسام کے وزیر اعلیٰ بر سرعام آئینی پروٹوکول توڑ کر کہتے ہیں– مسلمانوں کو اتنا ٹارچر کرو کہ ریاست چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔‘‘


کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بی جے پی کی حکومت میں اقلیتی طبقہ کو مستقل نشانہ بنائے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے موجودہ حالات کو فکر انگیز قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ بریلی کے خالی گھر میں نماز پڑھنے والوں پر پولیس مقدمہ درج کرتی ہے، کرسمس کی تیاری کرتے ہوئے عیسائیوں کے خلاف مقدمہ درج ہوتا ہے، مدھیہ پردیش کے بیتول میں محمد نعیم کے بنوائے اسکول پر بلڈوزر چلا دیا جاتا ہے، بنارس کی دال منڈی میں عدالت کا اسٹے ہونے کے بعد بھی سینکڑوں دکانوں کو توڑ دیا جاتا ہے، جموں و کشمیر میں نیٹ کوالیفائی کرنے والے 42 مسلم بچوں کا میڈیکل کالج میں داخلہ ہو جاتا ہے تو اس کی منظوری رَد کروا کر جشن منایا جاتا ہے۔

بی جے پی لیڈران کے ذریعہ ملک کی معزز شخصیات کو گالیاں دیے جانے پر عمران پرتاپ گڑھی نے شدید فکر کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو نسل اپنے بزرگوں کو گالی دیتی ہے، قدرت اس کے ساتھ انصاف کرتی ہے۔ بی جے پی کے لوگ نہرو جی، اندرا جی کے بارے میں نازیبا الفاظ کہتے ہیں، لیکن یہ کبھی نہرو جی کو چھوٹا نہیں کر پائیں گے۔ وہ یاد رکھیں، نہرو جی کا نام ’آئنسٹائن‘ کے ساتھ لیا جاتا ہے اور نریندر مودی کا نام ’ایپسٹین‘ کے ساتھ۔‘‘ عمران پرتاپ گڑھی جب اپنی باتیں راجیہ سبھا میں رکھ رہے تھے تو کچھ مواقع برسراقتدار طبقہ کے لیڈران نے ہنگامہ بھی کیا، لیکن کانگریس رکن پارلیمنٹ اپنی بات کہتے چلے گئے۔ خاص طور سے آخر میں ایوان کی کارروائی سنبھال رہے ہری ونش نے کہا کہ قابل اعتراض الفاظ ریکارڈ میں شامل نہیں کیے جائیں گے۔