نریندر مودی کے گجرات میں جھگیوں کو چھپانے کے لئے دیوار ہو رہی تعمیر

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ہندوستانی دورے کی زبردست تیاریاں ہو رہی ہیں اور احمدآباد میں تو یہاں تک تیاریاں ہو رہیں کہ ٹرمپ کے روڈ شو میں کوئی جھگی نہ دکھائی دے، جس کے لئے وہاں دیوار تعمیر کی جا رہی ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مودی کے گجرات ماڈل پر ایک مرتبہ پھر سوال کھڑے ہو رہے ہیں کیونکہ احمدآباد میونسپل کارپوریشن اس کوشش میں مصروف ہے کہ احمدآباد میں امریکی صدر ڈونالد ٹرمپ کی کسی جھگی پر نظر نہ پڑے اور اس کے لئے دیوار تعمیر کی جار ہی۔ واضح رہے یہ دیوار آدھا کیلومیٹر لمبی ہے اور اس کی اونچائی سات فٹ ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی 24 فروری کو یہاں پر روڈ شو ہونا ہے۔

نریندر مودی کے گجرات میں جھگیوں کو چھپانے کے لئے دیوار ہو رہی تعمیر

واضح رہے یہ دیوار احمدآباد ائیر پورٹ سے گاندھی نگر تک تعمیر کی جا رہی ہے۔ روڈ شو کے اختتام پر احمدآباد کے موتیرا اسٹیڈئم میں ٹرمپ لوگوں سے خطاب کریں گے۔ اس تقریب کا نام ویسے تو ‘کیم چھو‘ دیا گیا تھا لیکن اسے بدل کر اب ’نمستے انڈیا‘ کر دیا گیا ہے اور بالکل ایسا ہی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جیسا امریکہ کے ہوسٹن شہر میں نریندر مودی کے لئے ’ہاؤ ڈی مودی‘ منعقد کیا گیا تھا۔

یہ دیوار جو خبروں میں ہے وہ سارانیویاس جھگی ایریا میں تعمیر کی جا رہی ہے، یہاں پر تقریباً پانچ سو جھگیاں ہیں اور یہاں پر دو ہزار سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ اس دیوار پر کانگریس کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا نے ٹوئٹ کیا ہے ’’دیوار کے پیسوں سے تو ان جھگی والوں کے پکے مکان ہی بن جاتے، مودی جی؟ یہی ہے نا آپ کا وناش (تباہی)، اوہ وکاس (ترقی) کا ماڈل، ہر ناپسندیدہ چیز کو ڈھک کر چھپا دینا کوئی صاحب سے سیکھے۔‘‘ گجرات حکومت نے ٹرمپ کے دورہ کی وجہ سے اپنا بجٹ اجلاس بھی ملتوی کر دیا ہے۔

یہاں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ سال 2014 میں بی جے پی نے نریندر مودی کے گجرات ماڈل کو ہی اپنا انتخابی نعرہ بنایا تھا اور لوگوں نے اس نعرے کے حق میں ووٹ دے کر بی جے پی کو اقتدار سونپا تھا۔ اب یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ نریندر مودی تین مرتبہ گجرات کے وزیر اعلی رہے اور اب گزشتہ چھ سال سے ملک کے وزیر اعظم ہیں، لیکن پھر بھی اس گجرات کے ماڈل میں جھگیوں کو چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔