’چندہ چوری پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں حکومت کے اپنے ہی بیان اب اس سے سوال پوچھ رہے ہیں‘
کانگریس کے مطابق ہندوستانی عوام کے ذہن میں یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ خاموشی اختیار کر چوروں کو خاموش حمایت کیوں دے رہے ہیں؟

رام مندر میں مبینہ چندہ چوری معاملہ پر کانگریس نے آج ایک بار پھر برسراقتدار طبقہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے نہ صرف پی ایم مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ دونوں کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے، بلکہ حکومت کے پچھلے بیان سے پیدا نئی صورت حال پر بھی اپنی فکر ظاہر کی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’چندہ چوری، عقیدت سے دھوکہ‘ عنوان کے ساتھ ایک تفصیلی پوسٹ جاری کی ہے، جس میں لکھا ہے کہ ’’چوری پر پردہ ڈالنے کی کوشش میں حکومت کے اپنے ہی بیان اب اس سے سوال پوچھ رہے ہیں۔ حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنی ہی کہانی کی ایسی دلیلیں رکھ دی ہیں، جن سے سوال مزید گہرے ہو گئے ہیں۔‘‘
موجودہ حالات میں عوام کی ذہنی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے جئے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ملک کی عوام کے ذہن میں سوال ہے کہ وزیر اعظم مودی اور وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ خاموشی اختیار کر چوروں کو خاموش حمایت کیوں دے رہے ہیں؟ پہلے دن سے چندہ چڑھاوا چوری کے گناہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیوں ہو رہی ہے؟‘‘ انھوں نے یہ حقیقت بھی سامنے رکھی ہے کہ عوامی طور پر دستیاب جانکاری کے مطابق پہلی ایس آئی ٹی ریاستی حکومت نے خود تشکیل دی تھی، وہ بھی ٹرسٹ کی گزارش پر۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’13 جون 2026 کو اتر پردیش حکومت نے ٹرسٹ کی گزارش پر 3 رکنی ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ اس کی ابتدائی رپورٹ 23 جون کو اُس وقت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (داخلہ) سنجے پرساد کو سونپی گئی، جن کے ٹرسٹ سے ایکس-آفیشیو رکن کی شکل میں منسلک ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔‘‘
اس بارے میں مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے کانگریس جنرل سکریٹری نے لکھا کہ ’’6 جولائی 2026 کو ٹرسٹ کی میٹنگ میں اس رپورٹ پر بحث ہوئی۔ اس کے بعد خزانچی گووند دیو گری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ٹرسٹ کے لوگوں نے کوئی دھوکہ نہیں کیا۔ انھوں نے چمپت رائے کے کردار پر بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے ان کی ’خدمات کی تعریف‘ کی۔ یعنی جانچ میں سنگین سوال اٹھانے کے باوجود ٹرسٹ کی قیادت نے بی جے پی-آر ایس ایس-وی ایچ پی سے منسلک اپنے لوگوں کا عوامی دفاع کیا۔‘‘ بعد ازاں جئے رام رمیش نے دوسری ایس آئی ٹی کا ذکر کیا ہے، جو سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد تشکیل دی گئی۔ اس بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ ’’27 جولائی 2026 کو سپریم کورٹ کے حکم کے بعد آئی جی کرن ایس کی قیادت میں دوسری ایس آئی ٹی کی جانچ میں فورنسک آڈیٹر کو شامل کیا گیا۔ 17 اگست 2026 کو اس ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ ریاستی حکومت نے ’کنفیڈنشیل رپورٹ‘ کی شکل میں سیل بند لفافے میں سپریم کورٹ میں داخل کی۔ عدالتی ہدایت کے مطابق جانچ جاری ہونے کے سبب رپورٹ خفیہ رکھی گئی اور عرضی دہندگان کو نہیں دکھائی گئی۔‘‘
ان حقائق کو سامنے رکھنے کے بعد کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے 3 سوالات قائم کیے ہیں، جو اس طرح ہیں:
جب دوسری ایس آئی ٹی کی رپورٹ جانچ جاری ہونے کے سبب خفیہ رکھی گئی، تو پہلی ایس آئی ٹی کی رپورٹ ٹرسٹ کی میٹنگ میں کیسے پہنچی اور اس پر بحث کیسے ہوئی؟ کیا یہ وہی ٹرسٹ نہیں تھا جس کے عہدیداران کا کردار اور بیان جانچ کے دائرے میں تھے؟ جانچ کی رپورٹ ان لوگوں تک پہنچانے کی بنیاد اور مقصد کیا تھا؟
پہلی ایس آئی ٹی کی رپورٹ اُس وقت کے ایڈیشنل چیف سکریٹری (داخلہ) سنجے پرساد کو سونپی گئی، جن کے ٹرسٹ سے ایکس-آفیشیو رکن کی شکل میں منسلک ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ کیا یہ مفادات کے ٹکراؤ کا سنگین سوال نہیں ہے؟ اور کیا اسی رپورٹ پر ٹرسٹ کی قیادت کے ذریعہ چمپت رائے کا عوامی دفاع کرنا جانچ کی غیر جانبداری اور ثبوتوں کے تحفظ پر سوال نہیں کھڑے کرتا؟ حکومت نے اس حالت میں غیر جانبداری یقینی بنانے کے لیے کیا قدم اٹھائے؟
جب سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد دوسری ایس آئی ٹی اور فورنسک آڈیٹر کی ضرورت پڑی تو اب اتر پردیش حکومت اپنی ایس آئی ٹی کی جانچ مکمل بتا کر پورے معاملے کو ختم ماننے کی کوشش کیوں کر رہی ہے؟ کیا 8 لوگوں کے خلاف فرد جرم داخل ہونا ہی کافی ہے؟ سینئر عہدیداران کے کردار، نگرانی میں ہوئی ناکامیوں اور پورے ٹرسٹ کے مالی مینجمنٹ کی آزادانہ جانچ کیوں نہیں ہونی چاہیے؟ حکومت سپریم کورٹ کی نگرانی میں آگے کی جانچ اور جوابدہی طے کرنے سے کیوں پیچھے ہٹ رہی ہے؟
مذکورہ بالا سوالات پوچھنے کے بعد جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’چندہ اور عطیات ملک کا عقیدہ ہے، کسی کی ذاتی جاگیر نہیں۔ کروڑوں عقیدتمندوں کی امانت کا حساب دینا ہی ہوگا۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’چندہ چوری اور عطیات چوری کی پوری سچائی ملک کے سامنے آنی چاہیے اور قصورواروں کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
