بنگال میں کہیں اینٹ پتھر چلے، کہیں لاٹھیاں برسیں اور کہیں تھپڑوں کی ہوئی بارش، کم و بیش 10 مقامات پر ہوئے تشدد

مالدہ ضلع کے ہریش چندرپور اسمبلی حلقہ میں اس وقت افرا تفری مچ گئی جب ترنمول کانگریس کے ہی 2 گروپ آپس میں نبرد آزما ہو گئے۔

<div class="paragraphs"><p>مغربی بنگال میں اپنی باری کا انتظار کر رہے ووٹرس، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/ECISVEEP">@ECISVEEP</a></p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال میں آج پہلے مرحلہ کے تحت اسمبلی کی 152 نشستوں پر ووٹنگ کا عمل انجام پا گیا۔ اس دوران کم و بیش 10 مقامات پر تشدد کے واقعات سامنے آئے اور ایک طرح سے پوری ریاست میں کشیدگی کا ماحول قائم ہو گیا۔ آسنسول، مالدہ، کوچ بہار، سلی گوڑی اور مرشد آباد سمیت کئی مقامات پر تصادم ہوئے۔ کہیں امیدواروں کو گھیر کر مارا پیٹا گیا، کہیں لاٹھیاں چلیں تو کہیں اینٹ اور پتھروں کی بارش ہوئی۔ آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں کہ کہاں کیا کچھ دیکھنے کو ملا۔

آسنسول میں بی جے پی رکن اسمبلی اگنی مترا پال کی گاڑی پر نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا۔ ان کے مطابق یہ واقعہ برنپور کے رحمت نگر علاقے میں پیش آیا، جب وہ پولنگ مراکز کا جائزہ لینے جا رہی تھیں۔ ایک عمارت میں قائم پولنگ بوتھ کا معائنہ کرنے کے بعد جیسے ہی وہ آگے بڑھیں، پیچھے سے ان کی گاڑی پر بڑا پتھر پھینکا گیا جس سے پچھلا شیشہ ٹوٹ گیا۔ چونکہ وہ اگلی نشست پر بیٹھی تھیں، اس لیے محفوظ رہیں، لیکن پیچھے بیٹھے ان کی سیکورٹی ٹیم کے ارکان اور ذاتی معاون کو ہلکی چوٹیں آئیں۔


مرشد آباد کے ناؤدہ علاقہ میں اس وقت شدید کشیدگی پھیل گئی جب اے جے یو پی چیف اور ریجی نگر سے امیدوار ہمایوں کبیر ایک مقام کا دورہ کرنے پہنچے، جہاں ان کا ٹی ایم سی حامیوں سے تصادم ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ایک بڑی بھیڑ نے اچانک ان کی گاڑی کو گھیر لیا اور لاٹھیوں، ڈنڈوں اور اینٹوں سے حملہ کیا۔ واقعہ کے بعد سیکورٹی سخت کر دی گئی اور مرکزی فورس نے حالات کو قابو میں کیا۔

مالدہ ضلع کے ہریش چندر پور میں ترنمول کانگریس کے 2 گروپ آپس میں متصادم ہو گئے، جس کے نتیجے میں ایک انتخابی کیمپ آفس میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ ٹی ایم سی لیڈر سوپن علی نے الزام عائد کیا کہ وزیر تجمل حسین اور ان کے حامی کانگریس کے حق میں مہم چلا رہے ہیں اور انہی کے اشارے پر حملہ کیا گیا۔ مالدہ کے ہی موتھا باڑی اسمبلی حلقہ میں ای وی ایم خراب ہونے پر ووٹرس غصے میں آ گئے۔ سیکٹر افسر کے دیر سے پہنچنے پر لوگوں نے انہیں گھیر لیا اور ان کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی۔


سلی گوڑی کے ایک پولنگ بوتھ پر ووٹنگ کے دوران ٹی ایم سی اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا، جو ہاتھا پائی تک پہنچ گیا۔ موقع پر موجود مرکزی سیکورٹی فورس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بھیڑ کو منتشر کیا اور حالات کو قابو میں لیا۔ دوسری طرف کوچ بہار کے طوفان گنج علاقہ میں ووٹنگ کے دوران بڑی بھیڑ جمع ہو گئی، جسے قابو میں کرنے کے لیے مرکزی سیکورٹی فورس نے لاٹھی چارج کیا اور لوگوں کو منتشر کیا۔

جنوبی دیناج پور کے کمارگنج علاقہ میں بی جے پی امیدوار سوویندو سرکار پر مبینہ طور پر ٹی ایم سی حامیوں نے لاٹھیوں اور گھونسوں سے حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس کی موجودگی میں ان پر تشدد کیا گیا۔ جاموڑیا اسمبلی حلقے میں بھی تشدد کا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک گاڑی سے ای وی ایم ملنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ گاڑی سے مبینہ طور پر ای وی ایم ملنے کے بعد انتخابی ماحول گرم ہو گیا۔ مقامی لوگوں اور اپوزیشن کا کہنا تھا کہ گاڑی میں کئی ریزرو ای وی ایم موجود تھیں لیکن وہاں کوئی سیکورٹی اہلکار موجود نہیں تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔