بنگال اسمبلی انتخابات: راہل گاندھی کا مودی اور ممتا دونوں پر نشانہ، امریکہ معاہدے پر سخت نکتہ چینی
راہل گاندھی نے خطاب کے دوران کہا کہ مودی حکومت نے آئین کو کمزور کیا، امریکہ کے سامنے جھک گئی اور کسانوں و صنعت کو نقصان پہنچایا، جبکہ ممتا حکومت کو بھی بدعنوانی اور ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا

کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے مغربی بنگال کے رائے گنج میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی دونوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ امبیڈکر کے یومِ پیدائش کے موقع پر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں آئین کو کمزور کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں اور نفرت کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی نظریات ملک میں تقسیم پیدا کر رہی ہیں اور جمہوری اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست آئین پر حملہ ممکن نہیں، اس لیے مختلف اداروں میں مداخلت کے ذریعے جمہوریت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی بھارت جوڑو یاترا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جدوجہد نفرت کے خلاف اور محبت کے فروغ کے لیے ہے۔
اپنے خطاب کے دوران راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی پر امریکہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو لے کر شدید تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں ہندوستان کا زرعی شعبہ امریکی کسانوں کے لیے کھول دیا گیا ہے، جس سے ملک کے چھوٹے کسانوں کو شدید نقصان ہوگا۔ ان کے مطابق ہندوستان کے کسان چھوٹے پیمانے پر کام کرتے ہیں جبکہ امریکہ میں بڑے پیمانے پر مشینی زراعت ہوتی ہے، اس لیے مقابلہ ممکن نہیں رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں بھی ہندوستان کی خود مختاری متاثر ہوئی ہے اور اب تیل کی خریداری میں امریکہ کا اثر بڑھ گیا ہے۔ راہل گاندھی نے ڈیٹا سکیورٹی پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا حساس ڈیٹا بیرون ملک منتقل کیا جا سکتا ہے، جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بڑے صنعتی گروپوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں اور اس سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سے بڑی مقدار میں سامان خریدنے کے وعدے سے مقامی صنعتوں پر منفی اثر پڑے گا۔
مغربی بنگال کی سیاست پر بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ممتا بنرجی کی قیادت والی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بدعنوانی، بے روزگاری اور صنعتی زوال جیسے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے مختلف مالی گھوٹالوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا پیسہ واپس نہیں کیا گیا اور نظام میں جوابدہی کا فقدان ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنگال میں ایک طرف بی جے پی نفرت کی سیاست کر رہی ہے تو دوسری طرف ترنمول کانگریس حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا رہی ہیں، جبکہ عوام کو نقصان ہو رہا ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کانگریس پارٹی کی حمایت کریں اور ریاست میں متبادل سیاسی طاقت کو مضبوط کریں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ان کی پارٹی روزگار، تعلیم، صحت اور خواتین کے لیے مالی مدد جیسے مسائل پر کام کرے گی اور بنگال کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔