’خواتین ریزرویشن آج اور ابھی نافذ کرو!‘ الکا لامبا کی قیادت میں کانگریس کا جے پور میں بی جے پی دفتر کے باہر زبردست احتجاج
کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’خواتین ریزرویشن نافذ کرو، آج کرو اور ابھی کرو! جب تک 2023 میں منظور شدہ خواتین ریزرویشن نافذ نہیں ہوتا، ہماری جدوجہد رکنے والی نہیں ہے۔‘‘

جے پور میں خواتین ریزرویشن بل کو لے کر پیر (20 اپریل) کو سیاسی ماحول پوری طرح گرما گیا۔ کانگریس کی خواتین کارکنان نے شہر میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ریاستی دفتر سے بڑی تعداد میں خواتین سڑکوں پر نکل آئیں اور بی جے پی حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ احتجاج کے دوران ماحول اس قدر کشیدہ ہو گیا کہ پولیس اور خواتین کارکنان کے درمیان شدید تصادم دیکھنے کو ملا۔
واضح رہے کہ جب کانگریس کی خواتین کارکنان بی جے پی دفتر اور سی ایم ہاؤس کی جانب بڑھنے لگیں تو پولیس نے کانگریس دفتر کے باہر ہی بیریکیڈنگ لگا کر انہیں روک دیا۔ اس کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی، تقریباً ایک گھنٹے جاری رہنے والی اس جھڑپ میں کئی بار حالات بے قابو ہوتے نظر آئے۔ اس احتجاج کی قیادت کانگریس مہیلا ونگ کی قومی صدر الکا لامبا اور ریاستی صدر ساریکا سنگھ کر رہی تھیں۔ دونوں لیڈران نے بیریکیڈنگ پار کرنے کی کوشش کی اور کارکنان کا حوصلہ بڑھایا۔ اس دوران مظاہرین نے وزیر اعظم نریندر مودی کے پتلے کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے جھنڈے بھی جلائے۔
الکا لامبا نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ خواتین کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس ہمیشہ سے خواتین ریزویشن کی حمایتی رہی ہے اور چاہتی ہے کہ اسے فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب ملک کی خواتین بی جے پی کی سچائی سمجھ چکی ہے اور آنے والے وقت میں جواب دیں گی۔
راجستھان پردیش کانگریس کمیٹی نے اپنے آفیشل ’ایکس‘ ہینڈل سے مظاہرے کی کچھ تصاویر پوسٹ کی ہیں۔ کانگریس نے پوسٹ میں لکھا کہ ’’خواتین ریزرویشن نافذ کرو، آج کرو اور ابھی کرو! آج جے پور میں اے آئی سی سی مہیلا کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا اور راجستھان ریاستی مہیلا کانگریس کی صدر ساریکا سنگھ سمیت کانگریس کی بہنوں نے بی جے پی ہیڈکوارٹر کا گھیراؤ کیا۔ جب تک 2023 میں منظور شدہ خواتین ریزرویشن نافذ نہیں ہوتا، ہماری جدوجہد رکنے والی نہیں ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔