’خواتین ریزرویشن بل فوراً نافذ کیا جائے‘، الکا لامبا کی قیادت میں مہیلا کانگریس کا بی جے پی دفتر کے باہر زبردست احتجاج

الکا لامبا نے کہا کہ 2023 میں خواتین ریزرویشن کو منظور کرانے میں کانگریس کا بھی تعاون رہا لیکن اب بی جے پی کی نیت خراب ہے۔ ابھی جو ترمیمی بل لایا گیا وہ خواتین ریزرویشن بل نہیں بلکہ حد بندی کا بل تھا۔

<div class="paragraphs"><p>احتجاج کے دوران کانگریس لیڈران اور کارکنان (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

خواتین کانگریس نے اتوار (19 اپریل) کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی موجودہ نشستوں پر ہی 33 فیصد خواتین ریزرویشن نافذ کرنے کے مطالبے کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس دوران کانگریس لیڈران اور کارکنان نے بی جے پی ہیڈکوارٹر تک جا کر احتجاج کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے بیریکیڈنگ لگا کر انہیں پہلے ہی روک دیا۔ احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے مہیلا کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ خواتین ریزرویشن کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔

الکا لامبا نے کہا کہ 2023 میں خواتین ریزرویشن کو منظور کرانے میں کانگریس پارٹی کا بھی تعاون رہا لیکن اب بی جے پی کی نیت خراب ہے۔ ابھی جو ترمیمی بل لایا گیا وہ خواتین ریزرویشن بل نہیں بلکہ حد بندی کا بل تھا۔ ابھی جب مردم شماری ہی نہیں ہوئی تو حکومت ابھی حد بندی کر کے اپنی من مانی کرنا چاہتی ہے، لیکن کانگریس پارٹی ایسا نہیں ہونے دے گی۔


الکا لامبا کے مطابق کانگریس ہمیشہ سے خواتین ریزرویشن کے حق میں رہی ہے، اسی لیے ہم نے 2023 میں ہی خواتین ریزرویشن بل منظور کروا دیا تھا۔ لیکن اب نریندر مودی اپنی بات سے پلٹ رہے ہیں اور لوک سبھا میں جنوبی ہندوستانی ریاستوں کی نشستیں کم کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے اب یہ حد بندی بل لایا گیا۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو حد بندی کرنی ہے تو پہلے آپ مردم شماری کرائیں اور مردم شماری کے بعد ہی حلقہ بندی کریں، تاکہ تمام ریاستوں کو اپنی مناسب نمائندگی مل سکے۔

مہیلا کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کو ہمیشہ کانگریس نے ہی آگے بڑھایا ہے۔ خواتین کے لیے پنچایتوں میں ریزرویشن کانگریس نے دیا۔ ملک کو پہلی خاتون وزیر اعظم کانگریس نے دی۔ پہلی خاتون صدر کانگریس نے بنائی۔ بی جے پی نے جوڑ توڑ کی سیاست کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ جب خواتین ریزرویشن بل 2023 میں ہی منظور ہو چکا ہے تو اس کو ابھی لانے کی کیا ضرورت تھی۔


کانگریس لیڈر کے مطابق یہ حد بندی کا بل تھا، جس کی آڑ میں مودی حکومت ریاستی اسمبلیوں اور لوک سبھا میں اپنی من مانی کے مطابق نشستوں کو بڑھانا چاہتی ہے تاکہ وہ اقتدار میں برقرار رہ سکے۔ الکا لامبا نے کہا کہ حکومت کی نیت نہیں ہے کہ وہ 543 نشستوں پر خواتین ریزرویشن نافذ کرے اور 180 خواتین لوک سبھا تک پہنچ سکیں۔

قابل ذکر ہے کہ احتجاج کے دوران کانگریس کارکنان اور لیڈران کی پولیس کے ساتھ سخت نوک جھونک بھی ہوئی۔ اس احتجاج میں دہلی پردیش کانگریس اور مہیلا کانگریس کی کارکنان اور عہدیداران شریک ہوئیں۔ واضح رہے کہ کانگریس کے اس احتجاج کے دوران پولیس نے دین دیال اپادھیائے مارگ پر ایک طرف کی ٹریفک کو روک دیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔