اگر آج بھی ہم اقتدار کے پیچھے بھاگیں گے تو لعنت ہے ہم پر: عمر عبد اللہ

عمر عبداللہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ناگالینڈ کا لیڈر بھی ملک کے آئین اور جھنڈے کو ماننے سے انکار کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ بات چیت کی جاتی ہے، اس کے برعکس ہمیں ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

سری نگر: نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا کہنا ہے کہ "اگر ہم موجودہ سیاسی حالات میں بھی اقتدار کے پیچھے بھاگیں گے تو وہ ہمارے لئے لعنت ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات آپسی چھوٹی سیاسی لڑائیوں میں الجھے رہنے کے نہیں بلکہ ہمیں آج اپنے تشخص اور زمین کے لئے لڑائی لڑنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سال گذشتہ کے اوائل میں ہم سب جماعتیں الگ الگ راستوں پر چل رہی تھیں لیکن آج ہم ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہونے کے لئے مجبور ہوئے ہیں۔

موصوف نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس میں پارٹی کارکنوں سے اپنے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ "آج سیٹیں گننے کا موقع نہیں ہے، آج کرسی اور قتدار کے لئے لڑائی لڑنے کی بات نہیں ہے۔ لعنت ہے ہم پر اگر آج کے حالات میں بھی ہم اقتدار کے پیچھے بھاگیں گے، تو لوگ ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گے آج ہماری نظر سکریٹریٹ پر نہیں بلکہ اپنے تشخص کو بچانے پر ہونی چاہئے۔"

عمر عبداللہ نے کہا کہ آج سبھی جماعتیں ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "سال گذشتہ کے ماہ مارچ اپریل میں ہم سب پارٹیاں پی ڈی پی، کانگریس، پیپلز کانفرنس الگ الگ راستوں پر چل رہی تھیں لیکن آج ہم مرکز کی سازش کے نتیجے میں ہم ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ آج لوگوں کی نظریں ہماری طرف ہیں کہ آیا ہم زمین اور تشخص کو کس طرح بچانے میں کامیاب ہوں گے۔

موصوف نے کہا کہ دلی والوں نے ہمیں کمزور کرنے کے لئے کوئی حربہ نہیں چھوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ "دلی والوں نے ہمیں کمزور کرنے کے لئے کوئی حربہ نہیں چھوڑا، جو عقل آج ہمیں آئی ہے کاش پہلے آئی ہوتی تو شاید آج یہ نوبت نہیں آتی۔" انہوں نے کہا کہ مرکز کی ہمیں کمزور کرنے کی کوششوں کا نتیجہ ہی ہے کہ ہم آج بکھر گئے ہیں اور ان کی سازش کامیاب ہوئی ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "ملک کی کئی ریاستوں میں اس سے بھی مضبوط قوانین ہیں جہاں ملک کا باشندہ زمین خرید نہیں سکتا ہے لیکن نہ جانے جموں و کشمیر کے لوگوں کا کیا قصور ہے کہ یہاں باہر کے لوگوں کو زمین خریدنے کی اندھا دھند اجازت دی گئی۔" عمر عبداللہ نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب ہم اپنے حقوق کے لئے آوز اٹھاتے ہیں تو ہمیں ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ"جو ہم سے سال 2019 میں چھین لیا گیا وہ کسی دوسرے ملک کے آئین میں نہیں بلکہ اسی ملک کے آئین میں درج تھا اور آئین کے تحت حقوق کے لئے آواز اٹھانا غیر قانونی نہیں ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ یہ قوانین نیشنل کانفرنس نے نہیں بلکہ مہاراجہ ہری سنگھ نے شروع کئے تھے جس کی مورتی کے سامنے جموں میں بی جے پی والوں نے پرسوں ہی ایک پروگرام کیا تھا۔

موصوف نائب صدر نے کہا کہ ناگالینڈ کا لیڈر بھی ملک کے آئین اور جھنڈے کو ماننے سے انکار کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ بات چیت کی جاتی ہے اس کے برعکس ہمیں ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اگر ہمیں ملک کے خلاف بغاوت کرنی ہوتی تو سال 1947 میں ہمارا کارکن مقبول شیروانی قربانی نہیں دیتا، ہم نے تیس برسوں سے قربانیاں دی ہیں ہم کیسے مین اسٹریم چھوڑ سکتے ہیں۔"

عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کے نئے اراضی قوانین کے خلاف احتجاج کو ناکام بنانے کے حوالے سے کہا کہ "گذشتہ روز اس پارٹی کو جموں میں احتجاج درج کرنے کی اجازت دی گئی لیکن آج انہیں یہاں احتجاج کرنے سے روک دیا گیا اور اس کے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔"

Published: 30 Oct 2020, 12:14 AM
next