’اگر ویڈیو اے آئی سے تیار کردہ ہے تو مورتیوں کو سامنے لائے حکومت‘، منی کرنیکا گھاٹ معاملے پر بولے کانگریس لیڈر اجے رائے
اجے رائے نے کہا کہ ’’حکومت کے افسران اور وزراء اس بات کو قبول کر رہے ہیں کہ مورتی توڑی گئی ہے، دوسری جانب اسے اے آئی ویڈیو بتا کر سچ چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘
بنارس کے منی کرنیکا گھاٹ پر مورتیوں کو توڑے جانے سے متعلق گزشتہ کچھ دنوں سے سیاسی ہلچل مچی ہوئی ہے۔ جے سی بی سے قدیم ڈھانچوں کو منہدم کیے جانے سے اترپردیش سمیت پورے ملک میں ماحول گرم ہو گیا ہے۔ جبکہ اس معاملہ پر سیاست بھی تیز ہو گئی ہے۔ اس درمیان یوپی کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے نے مورتیوں کو توڑے جانے کو لے کر ریاست کی یوگی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اتوار (18 جنوری) کو یوپی کی راجدھانی لکھنؤ میں اجے رائے نے ایک پریس کانفرنس کر منی کرنیکا گھاٹ سے متعلق مسائل کو لے کر ریاستی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ اس دوران انہوں نے ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے چند سوالات کیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر مورتی سے متعلق ویڈیو اے آئی سے تیار کردہ ہے تو اس کے ٹھوس ثبوت عوام کے سامنے پیش کیے جائیں، ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا جائے کہ وہ مورتی کہاں گئی اور فی الحال کس جگہ پر رکھی گئی ہے۔‘‘
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’حکومت کے افسران اور وزراء اس بات کو قبول کر رہے ہیں کہ مورتی توڑی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب اسے اے آئی ویڈیو بتا کر سچ چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تضاد خود حکومت کی نیت پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی اجے رائے نے کہا کہ کل (ہفتہ 17 جنوری) کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ وارانسی آئے تھے اور ان کا منی کرنیکا گھاٹ جانے کا پروگرام طے تھا، لیکن اسے اچانک منسوخ کر دیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سوال یہ ہے کہ آخر یہ دورہ کیوں منسوخ کیا گیا؟ کیا اس لیے کہ سچائی سامنے نہ آ جائے؟
اجے رائے نے کہا کہ جائے وقوعہ پر گئے بغیر، زمینی حقیقت دیکھے بغیر صرف پریس کانفرنس کر دینا اور جو لوگ سچ بول رہے ہیں ان پر مقدمے درج کرانا جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کانگریس واضح کرتی ہے کہ کاشی کے عقیدے، ثقافت اور وراثت کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سچ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔
واضح رہے کہ کاشی کے منی کرنیکا گھاٹ پر دوبارہ ترقیاتی کام جاری ہے۔ منی کرنیکا کے پاس جلاسین گھاٹ پر کوریڈور کا انٹری پوائنٹ بنایا جا رہا ہے۔ کچھ روز قبل گھاٹ پر تعمیر نو کے منصوبے کے تحت انتظامیہ کے بلڈوزر نے ایک چبوترے کو منہدم کر دیا، جس میں اہلیہ بائی ہولکر کا مجسمہ، ایک شیو لنگ اور ایک دیگر مورتی کو نکال کر ملبے میں رکھ دیا۔ اس تعلق سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ویڈیو وائرل ہوئی۔ اہلیہ بائی ہولکر سے متعلق کمیٹی کے لوگوں نے مدھیہ پردیش اور بنارس میں احتجاج شروع کر دیا۔ دوسری جانب اب اپوزیشن پارٹیاں اس مسئلے کو لے کر بی جے پی پر حملہ آور ہے۔