مودی کی تلاشی معاملہ: ’آئی اے ایس محمد محسن کو معطل کر کے کیا پیغام دے رہی ہے بی جے پی!‘

احمد پٹیل نے سوال اٹھایا کہ ایس پی جی سیکورٹی حاصل کانگریسی رہنماؤں کی جانچ کی جاسکتی ہے تو پھر بی جے پی کے لیڈروں پر یہ ضابطہ نافذ کیوں نہیں ہوتا!

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ہیلی کاپٹر کی تلاشی لینے والے دستے کے افسر محمد محسن کی معطلی پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے غلط قرار دیا اور سوال کیا کہ آخر اس طرح کی کارروائی کرکے کیا پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

کانگریس کے سینئر رہنما احمد پٹیل نے ٹوئٹ کیا ’’الیکشن کے دوران اس بات کی کئی مثالیں موجود ہیں جب کمیشن نے کانگریس کے موجودہ اور سابق صدر کے قافلے کی تلاشی لی ہے۔ ایس پی جی سیکورٹی حاصل شخص کی نجی سطح پر جانچ پڑتال نہیں کی جاسکتی۔ سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم کے ہیلی کاپٹر کی جانچ کرنے والے افسر کو معطل کیوں کیا گیا۔ کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ کیا قانون کچھ لوگوں کے لئے الگ ہے؟‘‘

احمد پٹیل نے یہ بھی کہا کہ ایس پی جی سیکورٹی حاصل کانگریسی رہنماؤں کی جانچ کی جاسکتی ہے تو پھر بی جے پی کے لیڈرو ں پر یہ ضابطہ نافذ کیوں نہیں ہوتا ہے۔

کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے بھی اس معطلی کے حوالہ سے نریندر مودی پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ ’’جو مودی جی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر کے پوری اپوزیشن پر چھاپے ماری کا کھیل کھیلتے ہیں وہ پندرہ منٹ کی چیکنگ سے اتنا ڈر گئے کہ الیکشن کمیشن کو اپنے ہی افسر کو ہٹانا پڑا۔ کرناٹک میں ’بلیک باکس‘ نکلنے کے بعد مودی جی کو اپنا ہیلی کاپٹر چیک کرانے پر اتنا اعتراض کیوں؟‘‘

خیال رہے کہ منگل کو وزیر اعظم نریندر مودی جب اڈیشہ کے سنبل پور میں ریلی کے لئے پہنچے تو اسی دوران الیکشن کمیشن کے ایک فلائنگ اسکواڈ نے ان کے ہیلی کاپٹر کی تلاشی لی لیکن بعد میں کمیشن نے ڈیوٹی میں لاپرواہی برتنے کے الزام میں اسکواڈ کے چیف محمد محسن کو معطل کردیا۔ کمیشن نے کہا کہ ایس پی جی سیکورٹی حاصل افراد کے لئے طے شدہ ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔