"احتیاطی تدابیر اپنائی گئی تو دوبارہ لاک ڈاؤن کی نوبت نہیں آئے گی"

ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری کا کہنا ہے کہ عبادت گاہیں کھولنے کے بارے میں 3 ہزار سے زائد مذہبی لیڈروں بشمول ائمہ مساجد کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ امیدوں پر کھرا اتریں گے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

سری نگر: ضلع مجسٹریٹ سری نگر ڈاکٹر شاہد اقبال چوہدری کا کہنا ہے کہ ماہ رواں کی 16 تاریخ سے عبادت گاہیں کھلنے کے بعد اگر لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں گے تو لاک ڈاؤن دوبارہ عائد کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ سری نگر میں کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہونے والے کیسز کی تعداد ایکٹو کیسز سے دو گنی ہے۔

شاہد اقبال چوہدری نے جمعرات کے روز یہاں یوم آزادی کی فل ڈریس ریہرسل تقریب کے حاشیے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ 'عبادت گاہیں کھولنے کے بارے میں زائد از تین ہزار مذہبی لیڈروں بشمول ائمہ مساجد کے ساتھ تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور ہمیں یقین ہے کہ وہ امیدوں پر کھرا اتریں گے اور انتظامیہ کی طرف سے جاری گائیڈ لائنز پر عمل کیا جائے گا'۔ انہوں نے کہا کہ ایک مثبت بات یہ ہے کہ سری نگر میں کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد ایکٹو کیسز سے دوگنی ہے۔

ڈاکٹر شاہد نے کہا کہ ماہ رواں کی 16 تاریخ سے عبادت گاہیں کھل جانے کے ساتھ پچاس فیصد مارکیٹ کھولنے کی بھی متعلقین کے ساتھ بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں گے تو دوبارہ لاک ڈاؤن عائد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ موصوف ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ ہم نے 13 جون سے لاک ڈاؤن ہٹایا تھا لیکن کیسز میں اضافہ ہونے کی وجہ سے مجبوراً دوبارہ لاک ڈاؤن عائد کرنا پڑا۔

قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر میں اب تک کورونا کے زائد از 26 ہزار کیسز سامنے آچکے ہیں جبکہ متوفین کی تعداد پانچ سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ وادی کشمیر میں کورونا کے متاثرین و متوفین کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ درج ہونے کی وجہ سے ایک بار پھر لاک ڈاؤن عائد کیا گیا ہے۔

Published: 13 Aug 2020, 7:58 PM
next