نریندر مودی دوبارہ وزیراعظم بنے تو اقلیتوں کا وجود خطرہ میں پڑ جائے گا: چندرابابو

انہوں نے نریندر مودی، کے چندرشیکھرراو اور جگن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان تینوں نے ہاتھ ملا لیا ہے تاکہ ریاست کو برباد کیا جاسکے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

چتور: آندھراپردیش کے وزیراعلی و تلگودیشم کے قومی صدر این چندرابابو نائیڈو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ضلع چتور میں اتوار کی شب جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ کے اپنے ہم منصب چندرشیکھرراو پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہ چندر شیکھرراو کو 100ریٹرن گفٹ دیئے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چندر شیکھرراو کو سبق سکھائیں گے ،انہوں نے ریاست کے رائے دہندوں سے خواہش کی کہ وہ وائی ایس آرکانگریس کا صفایا کرتے ہوئے اے پی کے پانچ کروڑ عوام کی توہین پر ٹی آرایس سربراہ چندرشیکھرراو کو سخت پیام دیں۔

انہوں نے وزیراعظم مودی پر بھی شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اگر مودی دوبارہ وزیراعظم بنیں گے تو اقلیتوں کے موقف کا وجود خطرہ میں پڑ جائے گا۔ انہوں نے عوام کو انتباہ دیا کہ وائی ایس آرکانگریس کو ووٹ دینا دراصل بی جے پی کو ووٹ دینا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ تلگودیشم کو ہی ووٹ دیں کیونکہ یہی پارٹی مستحکم حکومت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ فلاحی اسکیمات پر کامیابی کے ساتھ عمل کرسکتی ہے۔

چندرابابو نے کڑپہ ضلع میں انتخابی دورہ کے بعد اس جلسہ سے خطاب کیا۔ انہوں نے سری کلاہستی میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلگودیشم حکومت کسانوں، خواتین، طلبا اور ملازمین کی بہبود کو ترجیح دے رہی ہے جس کے لئے پارٹی پابند عہد ہے۔ انہوں نے مودی، کے چندرشیکھرراو اور جگن کونشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان تینوں نے ہاتھ ملا لیا ہے تاکہ ریاست کو برباد کیا جاسکے۔ انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ وہ جگن کو ووٹ نہ دیں کیونکہ ایسا کرنا مودی کو ووٹ دینا ہے جس نے اے پی سے دغابازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اے پی میں کئی ترقیاتی کام کروائے گئے جس میں نئی صنعتوں کا قیام، ملازمتوں کی فراہمی بھی شامل ہے۔

next