’مودی ہے تو کیلنڈر میں 31 فروری ہونا بھی ممکن ہے‘، پی ایم کے وی وائی گھوٹالہ میں نئے انکشاف پر کانگریس کا طنز
کانگریس کا کہنا ہے کہ ’پی ایم کے وی وائی‘ کے تحت ٹریننگ پارٹنرس کو انرولمنٹ، سرٹیفکیشن اور پلیسمنٹ کے وقت پیسہ دیا جاتا رہا۔ جب ایک کمپنی میں آڈٹ کیا گیا تو پتہ چلا کہ لوگوں کا پلیسمنٹ ہی نہیں ہوا ہے۔

’پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا‘ (پی ایم کے وی وائی) میں مبینہ طور پر کروڑوں روپے کی بدعنوانی معاملہ سرخیوں میں ہے۔ کانگریس نے اس تعلق سے آج سخت تیور اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی کے ساتھ ساتھ مرکز کی مودی حکومت کو بھی کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔ پہلے تو کانگریس لیڈر کنن گوپی ناتھن نے پریس کانفرنس کر حقائق کو میڈیا کے سامنے رکھا، اور پھر پارٹی نے ایک ویڈیو کے ذریعہ پی ایم مودی پر طنز کے تیر چلائے۔
’پی ایم کے وی وائی‘ سے متعلق گھوٹالہ معاملہ پر کانگریس نے ویڈیو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری کی ہے۔ اس کا آغاز کچھ اس طرح ہے ’’پردھان منتری کوشل وکاس یوجنا، نام تو سنا ہی ہوگا، نہیں! اس کا گھوٹالہ تو سنیے۔ حال ہی میں آئی ’سی اے جی رپورٹ‘ میں پی ایم کے وی وائی سے جڑی کچھ کمال کی باتیں پتہ چلی ہیں۔ مثلاً مودی حکومت نے 7 سال میں 10 ہزار کروڑ روپے تقسیم کر دیے، لیکن ان میں سے 95 فیصد استفادہ کرنے والوں کے بینک اکاؤنٹ ہی فرضی ہیں۔ ’نیلما موونگ پکچرس‘ نام کی کمپنی نے پی ایم کے وی وائی کے تحت 33 ہزار لوگوں کو ٹریننگ دی۔ وہ الگ بات ہے کہ یہ کمپنی پچھلے 6-5 سالوں سے بند ہے۔ ’جئے پور کلچرل سوسائٹی‘ نام کی کمپنی نے تو بہت ہی کمال کر دیا۔ انھوں نے 31 فروری کو ٹریننگ آرگنائز کی۔‘‘
ویڈیو میں 31 فروری کو ٹریننگ آرگنائز کیے جانے پر کانگریس نے طنزیہ انداز میں حملہ کیا ہے۔ ویڈیو میں اینکر کہتا دکھائی دیتا ہے کہ ’’31 فروری... آپ یہ نہیں کر سکتے، لیکن بی جے پی کر سکتی ہے۔ مودی ہے، تو کیلنڈر میں 31 فروری ہونا بھی ممکن ہے۔ اتنے الگ الگ طرح سے گھوٹالہ کرنے میں ماہر ہیں یہ لوگ۔‘‘ اینکر نے آگے بتایا ہے کہ ’’تقریباً 61 لاکھ ٹرینرس کی جانکاری آدھی ادھوری دی گئی۔ ٹریننگ کی جانچ کرنے والے 97 فیصد تشخیص کنندہ کی کوئی جانکاری نہیں ہے۔ ایک لاکھ ای میل آئی ڈی ہیں، جو ایک کروڑ لوگوں کے لیے استعمال ہوئی ہیں۔ ایک ہی تصویر کو الگ الگ جگہوں کا بتایا گیا ہے۔‘‘ ویڈیو میں یہ بھی مطلع کیا گیا ہے کہ ’’اس منصوبہ کے تحت ٹریننگ پارٹنرس کو پیسہ دیا جاتا رہا، لیکن آڈٹ میں پتہ چلا کہ کوئی پلیسمنٹ نہیں ہوا ہے۔ یعنی پی ایم کے وی وائی کے نام پر ہر سطح پر بدعنوانی کی گئی ہے۔ اس معاملے میں سخت جانچ ہونی چاہیے۔ یہ نہ صرف ملک کے ٹیکس دہندگان کے ساتھ بلکہ نوجوانوں کے ساتھ بھی دھوکہ ہے۔‘‘
اس سے قبل آج دوپہر کانگریس کے نوجوان لیڈر کنن گوپی ناتھن نے ایک پریس کانفرنس کر پی ایم کے وی وائی سے جڑے گھوٹالہ معاملہ میں اہم جانکاریاں سامنے رکھیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ مودی حکومت کا ایک ایسا منصوبہ تھا، جس کے بارے میں آپ سبھی نے سنا ہوگا۔ حال ہی میں اس کی سی اے جی رپورٹ آئی ہے، جس میں 2015 سے 2022 تک کے پرفارمنس کی جانکاری دی گئی ہے۔ اس رپورٹ نے پی ایم کے وی وائی میں زبردست گھوٹالہ کا انکشاف کیا ہے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’ایک پروگرام تھا ’نیشنل اسکل ڈیولپمنٹ مشن‘۔ مودی حکومت نے اس کا نام بدل دیا، نئی پیکیجنگ کی اور نام رکھ دیا ’پی ایم کے وی وائی‘۔ حکومت نے اس منصوبہ کے لیے 7 سالوں میں 10 ہزار کروڑ روپے تقسیم کر دیے، جس میں 94.53 فیصد استفادہ کنندگان کے بینک اکاؤنٹ فرضی نکلے ہیں۔ تقریباً 61 لاکھ ٹرینرس کی جانکاری آدھی ادھوری دی گئی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’پی ایم کے وی وائی کے تحت ٹریننگ ہوئی ہے یا نہیں، اس کی جانچ کے لیے تشخیص کنندہ ہوتے ہیں، لیکن ہمارے پاس 97 فیصد تشخیص کنندہ کی کوئی جانکاری نہیں ہے۔ ٹریننگ مکمل کرنے والوں کے ای میل اور موبائل نمبر لیے جاتے ہیں۔ یہاں تقریباً ایک لاکھ ای میل لیے گئے ہیں اور ایک کروڑ لوگوں کے لیے وہی ای میل استعمال کر لیا گیا ہے۔‘‘
بدعنوانی میں شامل کچھ کمپنیوں کے بارے میں بھی کنن گوپی ناتھن نے میڈیا کو جانکاری دی۔ انھوں نے کہا کہ ’’نیلما موونگ پکچرس نام کی کمپنی نے پی ایم کے وی وائی کے تحت 33 ہزار لوگوں کو ٹریننگ دی ہے، لیکن یہ کمپنی گزشتہ 6-5 سالوں سے بند ہے۔ ٹریننگ کے تحت ایک ہی تصویر کو الگ الگ مقامات کا بتا کر استعمال کیا گیا ہے اور ٹریننگ دینے کی بات کہی گئی ہے۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ ’’جئے پور کلچرل سوسائٹی نام کے ٹریننگ پارٹنر نے بتایا کہ انھوں نے 31 فروری کو ٹریننگ آرگنائز کی ہے۔‘‘ سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے گوپی ناتھن کہتے ہیں کہ ’’یہ لوگ گھوٹالہ کرنے میں اتنے ماہر ہو چکے ہیں کہ اب 31 فروری کو بھی ٹریننگ کروا رہے ہیں۔‘‘
کنن گوپی ناتھن کا کہنا ہے کہ ’پی ایم کے وی وائی‘ میں ٹریننگ سے لے کر انرولمنٹ، سرٹیفکیشن اور پلیسمنٹ تک ہر سطح پر بدعنوانی کی گئی ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی سختی کے ساتھ جانچ ہونی چاہیے۔ یہ نہ صرف ملک میں ٹیکس دینے والوں، بلکہ نوجوانوں کے ساتھ بھی دھوکہ ہے۔ انھوں نے یہ خواہش بھی ظاہر کی کہ حکومت اس گھوٹالہ کی جانچ کے لیے انکوائری بٹھائے تاکہ سچائی کو سامنے لایا جا سکے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔