ہندوستان ایک مضبوط صنعتی پیداوار کا نظام قائم کر لے تو یہ پوری دنیا کے لیے بڑی خدمت ہوگی: راہل گاندھی

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ چین نے ایک شاندار صنعتی نظام قائم کیا ہے جس کا مقابلہ دنیا میں کوئی نہیں کر سکتا۔ لیکن ہندوستان کو چین کا دباؤ پر مبنی نظام پسند نہیں، کیونکہ وہاں جمہوریت نہیں ہے۔

<div class="paragraphs"><p> راہل گاندھی، تصویر بشکریہ&nbsp;@INCIndia</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے ہفتہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’چین نے دنیا میں ایک نہایت بہترین اور بے مثال صنعتی نظام قائم کیا ہے۔ تاہم پڑوسی ملک کا نظام دباؤ پر مبنی اور غیر جمہوری ہے۔‘‘ یہ بات انھوں نے ترووننت پورم میں آئی ٹی پیشہ وروں سے گفتگو کے دوران کہی۔

دراصل 7 مارچ کو راہل گاندھی نے کیرلم کے ترووننت پورم واقع ’ٹیکنوپارک‘ میں آئی ٹی شعبہ سے وابستہ افراد سے ملاقات کی۔ اس دوران کچھ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین نے صنعتی پیداوار کے میدان پر قبضہ کر لیا ہے، جبکہ امریکہ، ہندوستان اور دنیا کے کئی ممالک صرف صارفیت تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ اصل روزگار صنعتی پیداوار کے شعبہ میں پیدا ہوتا ہے، صرف صارفیت سے نہیں۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کے مطابق افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوستان نے چین کو صنعتی پیداوار کے میدان پر مکمل طور پر قابض ہونے دیا۔


راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ چین نے ایک شاندار صنعتی نظام قائم کیا ہے جس کا مقابلہ دنیا میں کوئی نہیں کر سکتا۔ لیکن ہندوستان کو چین کا دباؤ پر مبنی نظام پسند نہیں، کیونکہ وہاں جمہوریت نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر ہندوستان اپنے جمہوری اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مضبوط صنعتی پیداوار کا نظام قائم کر لے تو یہ نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا کے لیے بڑی خدمت ہوگی۔

راہل گاندھی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل فوجی طاقت تیزی سے الیکٹرک موٹر اور بیٹری ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ روس-یوکرین جنگ اور مغربی ایشیا کے موجودہ تنازعہ میں بھی یہ رجحان دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس ٹیکنالوجی پر اس وقت چین کا غلبہ ہے، نہ کہ ہندوستان یا امریکہ یا یورپ کا، اور یہ ایک بڑی تشویش کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان واحد ایسا ملک ہے جو ایندھن سے چلنے والے انجن سے بیٹری سے چلنے والی الیکٹرک موٹر کی طرف بڑے پیمانے پر تبدیلی لا سکتا ہے، کیونکہ اس کے پاس اس کے لیے ضروری پیمانہ موجود ہے۔ الیکٹرک موٹر پر مبنی سرکولر موبلٹی کے معاملہ میں امریکہ اور یورپ اب چین سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اگر درست پالیسیاں اور درست ویژن اپنایا جائے تو ہندوستان الیکٹرک موبلٹی کے میدان میں چین سے مقابلہ کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ملک میں بڑے پیمانے پر روزگار پیدا ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت چین اس میدان میں کسی بڑے چیلنج کے بغیر آگے بڑھ رہا ہے، اس شعبہ میں ہندوستان کے آگے آنے سے چین کے سامنے مشکل کھڑی ہو جائے گی۔


اس دوران راہل گاندھی نے ہند-امریکہ معاہدہ کا بھی ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے تحت ملک کے تمام ڈاٹا وسائل امریکہ کو دے دیے گئے ہیں، لیکن اس مسئلہ پر کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ اگر اس معاہدہ میں ہندوستان یہ کہتا کہ باقی باتیں ٹھیک ہیں، لیکن ہمارا ڈاٹا دنیا کا سب سے قیمتی ڈاٹا ہے، تو وہ یقین دلا سکتے تھے کہ نہ زراعت پر ٹیکس لگتا اور نہ ہی چھوٹے اور درمیانے کاروبار پر۔ ان کے مطابق کسی بھی مذاکرہ یا معاہدہ سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہوتا ہے کہ آپ کی اصل طاقت کیا ہے۔

راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں بہت بڑی تنوع موجود ہے، اسی لیے یہاں مختلف زاویوں سے چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں سب سے بڑا ڈاٹا کا ذخیرہ ہندوستان کے پاس ہے۔ ساتھ ہی ملک کے پاس بہترین انجینئرنگ اور طبی صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔ کیرلم دنیا کی بہترین نرسیں تیار کرتا ہے، اس لیے مذاکرات کے دوران یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہمارے پاس کون سی طاقتیں موجود ہیں، اور اسی بنیاد پر بات چیت کی جانی چاہیے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔