تشدد اور نفرت کے پاس بھلے ہی طاقت ہو، لیکن حقیقی قوت تو سچائی اور عدم تشدد میں ہے: راہل گاندھی
مہاتما گاندھی اور نارائن گرو کی کیرالہ میں ہوئی ملاقات کی 100ویں سالگرہ پر راہل گاندھی نے دونوں عظیم ہستیوں کو یاد کیا۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی اور عظیم سنت شری نارائن گرو کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی سیاست میں ایک طرف سچائی، عدم تشدد اور انکساری کی طاقت ہے، جبکہ دوسری طرف غصہ، نفرت، تشدد و غرور ہے۔ تشدد اور نفرت کے پاس چاہے طاقت ہو، لیکن حقیقی قوت سچائی اور عدم تشدد میں ہی پوشیدہ ہے۔
راہل گاندھی جمعہ کو مہاتما گاندھی اور شری نارائن گرو کی تاریخی ملاقات کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر کیرالہ کے کولّم میں منعقد پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے کہا کہ ان کے لیے اس تاریخی ملاقات کی یاد میں منعقد پروگرام میں شامل ہونا باعث فخر ہے۔ نارائن گرو جی جیسی عظیم شخصیات راہنما ہوتی ہیں، وہ ہمیں ایسی سمت دکھاتی ہیں جس پر ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ نارائن گرو اور گاندھی جی کی ملاقات کسی سادہ اور بناوٹ سے پاک جگہ پر ہوئی ہوگی اور ان کے درمیان سچائی اور عدم تشدد کے موضوع پر گفتگو ہوئی ہوگی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ جب عظیم لوگ ملتے ہیں تو وہ منکسر المزاج ہوتے ہیں، لیکن جب چھوٹے خیالات رکھنے والے لوگ ملتے ہیں تو ان کے درمیان غرور نظر آتا ہے۔ انہوں نے ملک کے آئین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک کتاب ہے جسے ہندوستان نے اپنی آزادی کی جدوجہد کے بعد اپنایا، لیکن اس میں ہندوستان کی قدیم علمی روایت اور سنتوں و عظیم شخصیات کی تعلیمات بھی شامل ہیں۔ آئین کمزوروں سے محبت کرنے اور ان کا احترام کرنے کی بات کرتا ہے اور یہی پیغام نارائن گرو بھی دیتے تھے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ نارائن گرو اپنی دعا میں کہتے تھے کہ ہمیں اندھیرے سے دور لے چلو، علم کی طرف لے چلو۔ آج جب ہم اپنی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں اس کے بالکل برعکس صورت حال دکھائی دیتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر کوئی اندھیرے کی طرف بھاگ رہا ہے اور علم سے دور جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج اختلاف ہونے پر لوگ ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں، بم گراتے ہیں، جبکہ نارائن گرو اور مہاتما گاندھی نے ہمیشہ عدم تشدد کا راستہ دکھایا۔ اگر ہم واقعی نارائن گرو جی کے تئیں سنجیدہ ہیں تو ہمیں ان کے خیالات کے مطابق زندگی گزارنے کے تئیں بھی سنجیدہ ہونا چاہیے۔ مہاتما گاندھی ہمیشہ نارائن گرو جی جیسے لوگوں سے متاثر رہا کرتے تھے۔ مہاتما گاندھی نے دنیا کی سب سے طاقتور برطانوی سلطنت کے خلاف جدوجہد کی۔ برطانوی سلطنت کے پاس طاقت تھی، لیکن گاندھی جی کے پاس سچائی کی قوت تھی۔ اسی لیے آخرکار سچائی اور عدم تشدد کی جیت ہوئی۔
راہل گاندھی نے کہا کہ نارائن گرو کے پاس نہ دولت تھی اور نہ ہی کوئی اقتدار، لیکن اپنے زمانے میں وہ کیرالہ کی سب سے بااثر شخصیات میں سے ایک تھے۔ آج بھی ان کے خیالات اتنے طاقتور ہیں کہ 100 سال بعد بھی کیرالہ کی پوری سیاسی قیادت انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک ساتھ جمع ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نارائن گرو جی اور مہاتما گاندھی جی کا پیغام سادہ ہے کہ تشدد اور نفرت سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، ہندوستان کی روح بھی بنیادی طور پر سچائی اور عدم تشدد کے اصولوں میں ہی مضمر ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔