وزیر اعظم کے خطاب میں سب کچھ اچھا ہے تو پھر مہنگائی کیوں ہے، لوگ پریشان کیوں ہیں؟

پی ایم مودی نے اپنے خطاب میں معیشت، ریئل اسٹیٹ، سرمایہ کاری اور روزگار وغیرہ کی بہت مثبت تصویر پیش کی۔ لیکن انہوں نے مہنگائی کا کوئی ذکر نہیں کیا، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

نوٹ بندی کے خطاب کے بعد سے عوام وزیر اعظم کے خطاب سے تھوڑا خوفزدہ بھی رہتے ہیں اور اسی وجہ سے زیادہ تر لوگ ان کا خطاب سنتے ضرور ہیں۔ آج انہوں نے قوم سے اپنے دسویں خطاب میں لوگوں سے کہا کہ تیہوار کے موقع پر وہ پوری احتیاط کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ’کوچ (ٹیکہ) کتنا بھی اچھا کیوں نہ ہو لیکن جب تک جنگ جاری ہے تب تک پوری احتیاط کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ماسک پہننے کی عادت ایسی ہی ڈالنی ہے جیسے گھر سے نکلتے وقت جوتا پہننے کی عادت ہے۔

سو کروڑ کی ٹیکہ کاری کے لئے مبارکباد دیتے ہوئے وزیر اعظم نے عوام کی تعریف کی اور کہا کہ یہ عوام کی کوششوں سے ہی ممکن ہوا ہے۔ اپنے خطاب میں لوگوں میں جوش بھرنے کی غرض سے وزیر اعظم نے ہر شعبہ کی مثبت تصویر پیش کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں معیشت، ریئل اسٹیٹ، سرمایہ کاری اور روزگار وغیرہ کی بہت مثبت تصویر پیش کی۔ لیکن وزیر اعظم نے مہنگائی کا کوئی ذکر نہیں کیا، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا۔


انہوں نے کہا کہ سو کروڑ لوگوں کو کورونا کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا اس وجہ سے دنیا کا ہندوستان کے تئیں نظریہ بدلا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان نے نہ صرف خود ٹیکہ بنایا بلکہ اسے لگایا بھی، لیکن انہوں نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ ہندوستان کی ویکسین ’کو ویکسین‘ کو عالمی طبی تنظیم نے ابھی تک منطوری کیوں نہی دی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی سائنسی سوچ کی وجہ سے یہ سب ممکن ہوا، لیکن انہوں نے ان لوگوں کی جانب اشارہ نہیں کیا جو کورونا کو وبا ماننے کے لئے تیار نہیں تھے بلکہ کچھ لوگ گائے کے پیشاب اور گوبر سے اس کے علاج کی بات کر رہے تھے۔ نہ ہی انہوں نے بابا رام دیو کا ذکر کیا جنہوں نے دعوی کیا تھا کہ ان کی کمپنی نے کورونا کی دوا بنا لی ہے۔

وزیر اعظم نے تھالی اور تالی بجانے کو جائز ٹھہراتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے قومی اتحاد نظر آیا، لیکن انہوں نے وبا سے جان گنوانے والوں پر زیادہ کچھ نہیں کہا۔ انہوں نے تہواروں سے پہلے اور سو کروڑ ٹیکہ لگانے کے موقع پر لوگوں میں جوش بھرنے کی پوری کوشش کی اور کہا کہ چاروں جانب جوش اور امید ہے یعنی آپٹی میزم ہی آپٹی میزم ہے۔ انہوں نے اس موقع پر میڈ ان انڈیا کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی کوشش ہونی چاہئے کہ وہ وہی سامان خریدیں جو ہندوستان میں بنا ہو۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کچھ ایسا نہیں کہا جو انہوں نے پہلے نہ کہا ہو۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔