’جب تک اقتدار میں نہیں لوٹتا، تب تک ایوان میں قدم نہیں رکھوں گا‘، نم آنکھوں سے چندرا بابو نائیڈو کا اعلان

ایوان میں تلخ نوک جھونک کے بعد سابق وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا، پھر انھوں نے اپنے کمرے میں اپنی پارٹی کے اراکین کے ساتھ اچانک میٹنگ کی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

آندھرا پردیش میں 15 نومبر کو ہوئے میونسپل کارپوریشن الیکشن میں وائی ایس آر سی پی نے نوتشکیل شہری بلدیہ کے 25 میں سے 19 وارڈوں میں جیت حاصل کی۔ ایسے میں اپنی پارٹی کی شکست سے مایوس تیلگو دیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) سربراہ این چندرابابو نائیڈو انتہائی جذباتی ہو گئے۔ انھوں نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ اقتدار میں لوٹنے کے بعد ہی پھر سے آندھرا پردیش اسمبلی میں قدم رکھیں گے۔

میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق انھوں نے بھاری آواز میں ایوان میں کہا کہ برسراقتدار وائی ایس آر کانگریس کے اراکین کے ذریعہ ان پر لگاتار کیے جا رہے نازیبا الفاظ کے استعمال سے وہ تکلیف میں ہیں۔ نائیڈو نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ ’’گزشتہ ڈھائی سال سے میں بے عزتی برداشت کر رہا ہوں، لیکن خاموش رہا۔ آج انھوں نے میری بیوی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ میں ہمیشہ عزت کے ساتھ رہا، میں اسے مزید برداشت نہیں کر سکتا۔‘‘ حالانکہ برسراقتدار پارٹی کے لیڈران نے نائیڈو کے بیان کو ’ڈرامہ‘ قرار دیا ہے۔


زراعتی سیکٹر پر ایک مختصر بحث کے دوران ایوان میں دونوں فریق کے درمیان تلخ نوک جھونک کے بعد سابق وزیر اعلیٰ نے اپنی مایوسی ظاہر کی تھی، جس کے بعد انھوں نے اپنے کمرے میں اپنی پارٹی کے اراکین کے ساتھ اچانک میٹنگ کی۔ وہاں مبینہ طور پر وہ روئے اور موجودہ حالات پر مایوسی کا اظہار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جب نائیڈو کی آنکھوں میں آنسو آئے تو ٹی ڈی پی اراکین اسمبلی نے نائیڈو کو تسلی دی، جس کے بعد وہ سبھی ایوان میں واپس آ گئے۔ نائیڈو نے اس وقت ایوان سے دور رہنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’جب تک میں اقتدار میں نہیں لوٹتا، تب تک ایوان میں نہیں لوٹوں گا۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔