’کھاؤں گا، کھانے دوں گا اور کھلاؤں گا‘، جئے رام رمیش نے 8 حقائق سامنے رکھ کر پی ایم مودی پر کیا حملہ
جئے رام رمیش نے کہا کہ ’’وزیر اعظم اب بھی مرکزی وزیر تعلیم کو عہدہ پر بنائے ہوئے ہیں، جن کی مدت کار میں امتحان سسٹم بدعنوانی کا شکار اور کمپرومائز ہو چکا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعہ دیے گئے مشہور نعرہ ’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘ پر کانگریس نے آج ایک بار پھر زوردار حملہ کیا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے کہا ہے کہ ’’مئی 2014 میں نریندر مودی ’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘ کا نعرہ دے کر وزیر اعظم بنے تھے۔ لیکن یہ دعویٰ جلد ہی کھوکھلا ثابت ہو گیا، جب ڈاکٹر منموہن سنگھ نے 8 نومبر 2016 کی نوٹ بندی کو ’منظم لوٹ اور قانونی ڈکیتی‘ قرار دیا۔ اس کے بعد گجرات کے وزیر اعلیٰ کی شکل میں ان کی مدت کار کے دوران ہوئے 20 ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالہ کو چھپانے کے لیے جی ایس پی سی کا جبراً او این جی سی میں انضمام کر دیا گیا۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’الیکٹورل بانڈ کا اعلان کیا گیا اور بعد میں یہ 4 لاکھ کروڑ روپے کا ایک بہت بڑا ’چندہ دو، دھندا لو‘ گھوٹالہ ثابت ہوا۔‘‘
یہ بیان جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری کیا ہے۔ اس پوسٹ میں انھوں نے پی ایم مودی کو کئی محاذ پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’مودانی سلطنت کی دھواں دھار توسیع نے مودی حکومت کی حقیقی فطرت کو سامنے لا دیا، جیسا کہ کانگریس کی ’ہم اڈانی کے ہیں کون‘ سیریز میں وزیر اعظم سے پوچھے گئے 100 سوالوں سے واضح ہوا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’’رافیل معاہدہ سے متعلق اٹھائے گئے سنجیدہ سوالوں کا آج تک اطمینان بخش جواب نہیں دیا گیا ہے۔ اسی دوران پوری طرح غیر شفاف اور جوابدہی سے بالاتر پی ایم کیئرس فنڈ کی بھی تشکیل کی گئی۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’سی اے جی کو کمزور کر دیا گیا، لیکن اس کے باوجود بھی ’آیوشمان بھارت‘ اور ’پی ایم کوشل وکاس یوجنا‘ جیسے مودی حکومت کے اہم منصوبوں میں بڑے پیمانے پر فرضی خرچ والی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔‘‘
جئے رام رمیش نے موجودہ حالات میں بھی ’نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا‘ نعرہ کو پوری طرح ناکام قرار دیا۔ انھوں نے 8 حقائق پیش کر ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ پی ایم مودی کا یہ نعرہ محض جھوٹ ہے۔ وہ 8 حقائق اس طرح ہیں:
ایودھیا کے رام مندر میں آر ایس ایس-بی جے پی ایکو سسٹم سے جڑے لوگوں کے ذریعہ انجام دیا گیا ’چندہ چوری، عقیدہ سے دھوکہ‘ پورے ملک کی روح کو جھنجھوڑ دینے والا ہے۔
اروناچل پردیش کے وزیر اعلیٰ اب بھی اپنے عہدہ پر بنے ہوئے ہیں، جبکہ 6 اپریل 2026 کو سپریم کورٹ نے ان کی 10 سالہ مدت کار کے دوران لیے گئے ان فیصلوں کی سی بی آئی جانچ کے حکم دیے تھے، جن سے ان کی فیملی کے اراکین کو فائدہ پہنچا۔
مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ، جن پر مختلف مشتبہ اراضی معاہدوں اور لین دین کے ذریعہ اپنے کنبوں کو فائدہ پہنچانے کے انکشافات ہوئے ہیں، اب بھی اپنے عہدے پر بنے ہوئے ہیں۔
مختلف طرح کے مالی لالچ دے کر اپوزیشن پارٹیوں کو توڑنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مودی حکومت میں ایک ریاستی وزیر، اپنی ہی وزارت کے ذریعہ آپریٹ ایک منصوبہ کے تحت سبسیڈی لینے کی بات سامنے آنے کے باوجود اب بھی اپنے عہدہ پر بنے ہوئے ہیں۔
مرکزی وزیر ماحولیات کے 4 قریبی معاونین کو راتوں رات برخاست کر دیا گیا، جس سے یہ اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر بغیر آگ کے اتنا دھواں کیسے اٹھ سکتا ہے۔
ای-20 سے جڑے فیصلے اس طرح لیے جا رہے ہیں کہ ان کا زبردست فائدہ مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ کی فیملی کو پہنچے۔
دہلی کی وزیر اعلیٰ اب اپنے اختیارات میں وزیر اعلیٰ بن چکی ہیں، لیکن اس بات کے کافی ثبوت ہیں کہ ان کی فیملی کے اراکین انتظامی و حکومتی معاملوں میں سرگرم طریقے سے مداخلت کر رہے ہیں۔
ان حقائق کو پیش کرنے کے بعد جئے رام رمیش نے لکھا ہے کہ ’’وزیر اعظم اب بھی مرکزی وزیر تعلیم کو عہدہ پر بنائے ہوئے ہیں، جن کی مدت کار میں امتحان سسٹم بدعنوان اور کمپرومائز ہو چکا ہے۔ یہ ملک کے کروڑوں نوجوانوں کی امیدوں اور خواہشات کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہے۔‘‘ آخر میں تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’پی ایم مودی نے ’کم از کم گورننس، زیادہ سے زیادہ کور-اَپس‘ دیا ہے۔ ان کے لیے ہمیشہ سے یہی رہا ہے– کھاؤں گا، کھانے دوں گا اور کھلاؤں گا۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
