آئی-پیک چھاپہ معاملہ: ممتا بنرجی کے خلاف ای ڈی کی عرضی پر سپریم کورٹ میں اگلی سماعت 10 فروری کو ہوگی
3 فروری کی سماعت میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بتایا کہ مغربی بنگال حکومت کا جواب انہیں آج ہی موصول ہوا ہے، اس لیے ای ڈی کو اس پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے تھوڑا وقت چاہیے۔

مغربی بنگال میں پولیٹیکل کنسلٹنسی فرم انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی (آئی-پیک) چھاپہ معاملے میں سپریم کورٹ میں ممتا بنرجی اور ریاستی حکومت کے خلاف ای ڈی کی عرضی پر سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔ اب اگلی سماعت 10 فروری کو ہوگی۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ ریاستی حکومت اور وزیر اعلیٰ نے مرکزی ایجنسی کی تحقیقات میں دخل دیا ہے۔ اس معاملے میں ای ڈی نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی اور کہا کہ ’’کولکاتہ میں پولیٹیکل کنسلٹنسی فرم ’آئی-پیک‘ کے آفس اور اس کے شریک بانی پرتیک جین کے گھر پر جب تلاشی لی جا رہی تھی، تب مغربی بنگال حکومت اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے مداخلت کی تھی۔‘‘
واضح رہے کہ ای ڈی نے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، ریاست کے ڈی جی پی اور کولکاتہ پولیس کمشنر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔ ای ڈی کی طرف سے سالیسٹر جنرل (ایس جی) تشار مہتا نے اسے جمہوریت کے خلاف ایک سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مرکزی افسران کو ڈرایا دھمکایا گیا اور انہیں اپنے قانونی فرائض کی انجام دہی سے روکا گیا۔‘‘
سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت میں اس ایف آئی آر پر پابندی عائد کر دی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ تلاشی والے احاطوں اور آس پاس کے علاقے کا سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ڈیجیٹل ڈیٹا محفوظ رکھا جائے۔ عدالت نے وزیر اعلیٰ اور سینیئر پولیس افسران کو حلف نامہ داخل کرنے کے لیے 2 ہفتے کا وقت دیا تھا۔ مغربی بنگال کی جانب سے سینیئر ایڈووکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا تھا کہ ’’ای ڈی کی عرضی قابل سماعت نہیں ہے اور ’فورم شاپنگ‘ کا معاملہ ہے۔ ان کی دلیل تھی کہ کلکتہ ہائی کورٹ میں پہلے سے ہی اسی طرح کی عرضیاں زیر التوا ہیں اور وہاں کافی قانونی راستے دستیاب تھے۔‘‘
3 فروری کی سماعت میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بتایا کہ مغربی بنگال حکومت کا جواب انہیں آج ہی موصول ہوا ہے، اس لیے ای ڈی کو اس پر اپنا جواب داخل کرنے کے لیے تھوڑا وقت چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ عدالت نے سماعت کی تاریخ آگے بڑھا کر 10 فروری کر دی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔