آئی-پیک معاملہ: ای ڈی افسران کے خلاف ایف آئی آر پر سپریم کورٹ کی عبوری روک

آئی-پیک کے دفتر پر چھاپہ ماری کے معاملے میں سپریم کورٹ نے ای ڈی افسران کے خلاف ایف آئی آر پر عبوری روک لگاتے ہوئے ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کیا اور شواہد محفوظ رکھنے کی ہدایت دی

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا میں سیاسی مشاورتی ادارے آئی-پیک کے دفتر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی حالیہ چھاپہ ماری کا معاملہ اب سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ ای ڈی نے بنگال پولیس پر ریاستی حکومت کے کہنے پر تفتیش میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے ابتدائی سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے ای ڈی افسران کے خلاف درج ایف آئی آر پر اگلی سماعت تک روک لگا دی اور ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی مرکزی تفتیشی ایجنسی کی قانونی جانچ میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جسٹس پی کے مشرا نے حکم دیا کہ ای ڈی افسران کے خلاف درج تمام ایف آئی آر آئندہ سماعت تک معطل رہیں گی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ریاستی فریق کو ہدایت دی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج، تلاشی کے دوران کی گئی ریکارڈنگ اور دیگر اسٹوریج ڈیوائسز کو محفوظ رکھا جائے، تاکہ شواہد کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ ہو۔

ای ڈی کی جانب سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ چھاپہ ماری کے دوران بنگال پولیس کے اعلیٰ افسران اور بعد میں خود وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی موقع پر پہنچیں اور تفتیشی عمل میں رکاوٹ ڈالی۔ ای ڈی کا الزام ہے کہ اس دوران تفتیشی افسران کے لیپ ٹاپ، اہم دستاویزات اور موبائل فون زبردستی لے لیے گئے۔ ای ڈی نے ریاست کے ڈی جی پی راجیو کمار اور کولکاتا کے پولیس کمشنر منوج کمار ورما کے خلاف کارروائی اور فوری معطلی کا مطالبہ بھی کیا۔


سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ای ڈی کی نمائندگی کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک طرزِ عمل ہے، جس کے ذریعے ریاستی مشینری کو مرکزی ایجنسیوں کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے اقدامات بڑے مالی گھوٹالوں کی غیر جانبدار جانچ کو مشکل بنا دیتے ہیں۔

ریاستی حکومت اور ترنمول کانگریس کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی نے ان الزامات کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی پی اے سی کے دفتر میں انتخابی مہم سے متعلق خفیہ مواد موجود تھا، جس کا ای ڈی کی تفتیش سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔ انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ وزیر اعلیٰ کو زیڈ کیٹیگری سیکورٹی حاصل ہے، اس لیے ان کے ساتھ پولیس افسران کا موجود ہونا ان کی آئینی ذمہ داری ہے۔

عدالت نے دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ معاملہ سنگین آئینی سوالات سے جڑا ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے زور دیا کہ قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے یہ طے ہونا ضروری ہے کہ نہ تو کسی ایجنسی کو سیاسی سرگرمیوں میں مداخلت کا حق ہے اور نہ ہی ریاستی اختیارات کی آڑ میں کسی ممکنہ جرم کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت میں عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ تفتیش اور ریاستی اختیارات کے درمیان آئینی توازن کس طرح قائم رکھا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔