’میں نے کہا تھا پی ایم مودی پارلیمنٹ میں نہیں آئیں گے‘، لوک سبھا میں پی ایم مودی کی تقریر ملتوی ہونے پر راہل کا حملہ

راہل گاندھی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’جیسا میں نے کہا، پی ایم مودی پارلیمنٹ میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ خوفزدہ ہیں اور سچائی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سابق فوجی چیف جنرل منوج مکند نروَنے کی کتاب دکھاتے ہوئے راہل گاندھی، ویڈیوب گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے آج صبح پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں کو سابق فوجی چیف جنرل ایم ایم نروَنے کی متنازعہ غیر مطبوعہ کتاب کو دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ یہ کتاب پی ایم مودی کو پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ پی ایم مودی شاید ایوان میں حاضری ہی نہ دیں۔ ان کا یہ اندیشہ سچ ثابت ہوا، کیونکہ آج لوک سبھا میں 5 بجے مقررہ کردہ پی ایم مودی کی تقریر ہنگامہ کی وجہ سے ملتوی ہو گئی۔ وزیر اعظم ایوانِ زیریں میں داخل بھی نہیں ہو پائے، یعنی راہل گاندھی سے ان کا سامنا نہیں ہو سکا۔

اب اس معاملہ میں راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ جاری کر دعویٰ کیا کہ پی ایم مودی خوف میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے اس پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’جیسا میں نے کہا، پی ایم مودی پارلیمنٹ میں نہیں آئیں گے کیونکہ وہ خوفزدہ ہیں اور سچائی کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ اس پوسٹ کے ساتھ راہل گاندھی نے وہ ویڈیو بھی لگائی ہے، جس میں انھوں نے نامہ نگاروں سے کہا تھا کہ ’’مجھے نہیں لگتا وزیر اعظم میں آج ایوان میں آنے کی ہمت ہوگی، کیونکہ اگر وہ آتے ہیں تو میں خود ان کے پاس جا کر جنرل منوج نرونے کی کتاب پیش کوں گا تاکہ ملک کے سامنے سچائی آ سکے۔‘‘


پی ایم مودی کے لوک سبھا میں نہ آنے سے متعلق کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کا بھی سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے لوک سبھا کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی ہونے کے بعد پارلیمنٹ احاطہ میں نامہ نگاروں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’(پی ایم مودی) ڈر گئے۔ وہ ایوان میں آنے سے ڈر گئے۔ اُن کے وزیر ریل اور نشی کانت دوبے جی تو بلیٹ ٹرین کی طرح بھاگے لڑکیوں (خاتون اراکین پارلیمنٹ) کو دیکھ کر۔‘‘ اس مختصر بیان کی ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے، جس کے ساتھ کیپشن لگایا ہے ’نریندر مودی پارلیمنٹ میں آنے سے ڈر گئے۔‘

قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی تقریر پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا جواب دینا تھا۔ اس کے لیے آج 5 بجے کا وقت مقرر تھا۔ 5 بجے جب ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو ہنگامہ بھی ساتھ ہی شروع ہو گیا۔ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ برسراقتدار طبقہ کے رویہ پر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے تھے، جبکہ برسراقتدار طبقہ اپوزیشن لیڈران کی کوئی بھی بات سننا پسند نہیں کر رہا تھا۔ اس درمیان کچھ اراکین پارلیمنٹ تختیاں لے کر نعرہ بازی کرتے ہوئے ویل میں پہنچ گئے، پھر چیئر پر بیٹھی ایوان کی سربراہی کر رہی سندھیا رائے نے کارروائی کو کل تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ اِس وقت تک پی ایم مودی لوک سبھا میں داخل بھی نہیں ہو پائے تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔