’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا‘، یو جی سی تنازعہ پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان

دھرمیندر پردھان نے کہا کہ ’’میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کسی کو بھی ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ڈسکریمینشن (امتیازی سلوک) کے نام پر قانون کا غلط استعمال کرنے کا کسی کو حق نہیں ہوگا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>یو این آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی جانب سے جاری کردہ امتیازی سلوک کے خلاف نئے ضوابط (اینٹی ڈسکریمینیشن) پر ملک کے تعلیمی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ دہلی کے مختلف کالجوں کے طلبہ کے احتجاج اور ’ریوس ڈسکریمینیشن‘ (الٹا امتیازی سلوک) کے الزامات کے درمیان مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے حکومت کا موقف واضح کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ نئے قوانین کا مقصد انصاف کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ کسی کو ہراساں کرنا۔

نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے سوشل میڈیا اور میڈیا کے ذریعہ سے اٹھ رہے سوالوں کا مرکزی وزیر تعلیم نے جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں آپ کو عاجزی کے ساتھ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کسی کو بھی ہراساں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ڈسکریمینشن (امتیازی سلوک) کے نام پر قانون کا غلط استعمال کرنے کا کسی کو حق نہیں ہوگا۔‘‘ وزیر تعلیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خواہ یو جی سی ہو، ہندوستانی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں سب کی یہ اجتماعی ذمہ داری ہے کہ قانون کو غیر جانبداری سے نافذ کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی نظام بنایا گیا ہے، وہ مکمل طور سے ہندوستانی آئین کے دائرہ کار میں ہے۔


تنازعہ کے ایک اہم نکتے، یعنی بے قصور طلبہ کے پھنسنے کے خدشہ کے متعلق مرکزی وزیر تعلیم نے کہا کہ یہ پورا عمل عدلیہ کے دائرہ اختیار میں ہے۔ دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے کہ ’’یہ معاملہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں قائم ایک نظام کا حصہ ہے۔ میں سب کو اس بات کا یقین دلانا چاہتا ہوں کہ کسی کے ساتھ بھی ظلم یا امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔‘‘

واضح رہے کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) نے 13 جنوری کو پرموشن آف ایکویٹی اِن ہائر ایجوکیشن انسٹی ٹویشن ریگولیشن 2026 نافذ کیا ہے۔ اس قانون کا مقصد اعلیٰ تعیلمی اداروں میں درج فہرت ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی)، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، معاشی طور پر کمزور طبقات (ای ڈبلیو ایس)، خواتین اور معذور افراد، طلبہ اور ملازمین کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کو ختم کرنا بتایا گیا ہے۔


ان قوانین کے تحت ہر یونیورسٹی اور کالج میں 9 ارکان پر مشتمل ایک برابری کی کمیٹی یعنی ’ایکویٹی کمیٹی‘ تشکیل دینے کا التزام کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی میں ادارے کے سربراہ، 3 پروفیسر، ایک ملازم، 2 عام شہری، 2 خصوصی طور پر مدعو کیے گئے طلبہ اور ایک کوآرڈینیٹر شامل ہوں گے۔ قوانین کے مطابق اس کمیٹی میں کم از کم 5 سیٹیں لازمی طور پر ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، معذور اور خواتین کے لیے ریزرو ہوں گی۔ یہیں سے تنازعہ کی شروعات ہوئی۔

نئے قوانین کی مخالفت کر رہے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایکویٹی کمیٹی میں جنرل کیٹیگری کے لیے کوئی لازمی نمائندگی طے نہیں کی گئی ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ جب کمیٹی امتیازی سلوک کی شکایتوں کی جانچ کرے گی، تو جنرل کیٹیگری کے طلبہ اور اساتذہ کو مناسب نمائندگی کے بغیر ایک طرفہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ قوانین اس مفروضے پر مبنی معلوم ہوتے ہیں کہ ایک طبقہ ہمیشہ مظلوم ہے اور دوسرا طبقہ ہمیشہ ظالم۔ اس سے تعلیمی کیمپس میں بے اعتمادی کا ماحول بن سکتا ہے۔ اعلیٰ ذاتوں کی کئی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ جنرل کیٹیگری کے طلبہ اور اساتذہ کو جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی شکایات کے ذریعے ہراساں کیا جا سکتا ہے۔