’بجٹ اجلاس سے قبل وزیر اعظم مودی کے بیانات منافقت سے بھرپور‘، جے رام رمیش کی سخت تنقید

جے رام رمیش نے بجٹ اجلاس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانات کو منافقت سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نہ حزبِ اختلاف کو اعتماد میں لیتی ہے اور نہ پارلیمنٹ میں جواب دہی کا مظاہرہ کرتی ہے

کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش / آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: کانگریس نے بجٹ اجلاس کے آغاز سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی کے بیانات کو منافقت سے بھرپور قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ پارلیمانی اجلاس سے پہلے قوم کے نام پیغام دینا وزیر اعظم کا معمول بن چکا ہے، مگر عملی طور پر نہ تو حزبِ اختلاف کو اعتماد میں لیا جاتا ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کے اندر سنجیدہ مکالمہ کیا جاتا ہے۔

کانگریس کے جنرل سیکریٹری اور رکنِ پارلیمنٹ جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم نہ قومی امور پر حزبِ اختلاف کو اعتماد میں لینے کے لیے کل جماعتی اجلاس بلاتے ہیں اور نہ ہی ان کی صدارت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اہم قومی مسائل پر مشاورت کے بجائے حکومت یک طرفہ فیصلوں کو ترجیح دیتی ہے، جس سے پارلیمانی جمہوریت کی روح متاثر ہوتی ہے۔

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ حکومت اکثر آخری وقت میں اہم بل پیش کرتی ہے اور مناسب قانون ساز جانچ پڑتال کے بغیر انہیں پارلیمنٹ سے منظور کرا لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں بیٹھ کر حزبِ اختلاف کے سوالات اور خدشات کا جواب دینے کے بجائے دونوں ایوانوں میں انتخابی جلسوں جیسے خطابات کرتے ہیں، جو پارلیمانی روایت کے منافی ہے۔

کانگریس لیڈر کے مطابق ہر اجلاس سے پہلے پارلیمنٹ کو پس منظر بنا کر قوم کے نام پیغام دینا وزیر اعظم کی مستقل روش بن چکی ہے مگر ان پیغامات میں شفافیت اور جواب دہی کے بجائے سیاسی بیان بازی غالب ہوتی ہے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ آج کا بیان بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔


دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی نے بجٹ اجلاس کے آغاز پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ ایک پرعزم ہندوستان کے لیے ہے اور اس سے صنعت کاروں کو نئی منڈیوں تک رسائی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک طویل عرصے سے چلے آ رہے مسائل سے باہر نکل رہا ہے اور دیرپا حل کی سمت بڑھ رہا ہے۔

وزیر اعظم نے زور دیا کہ اب رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے حل تلاش کرنے کا وقت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت محض فائلوں تک محدود نہیں بلکہ فلاحی منصوبوں کی آخری سطح تک ترسیل کو یقینی بنا رہی ہے۔ انہوں نے انسانی مرکزیت پر مبنی ترقی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔

کانگریس کا موقف ہے کہ حکومت کے یہ دعوے زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پارٹی کے مطابق اگر واقعی پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا مقصود ہے تو وزیر اعظم کو ایوان کے اندر موجود رہ کر سوالات کا جواب دینا چاہیے، قانون سازی میں شفافیت لانی چاہیے اور حزبِ اختلاف کے ساتھ بامعنی بات چیت کرنی چاہیے۔ کانگریس نے کہا کہ صرف تقاریر اور دعووں سے جمہوری اقدار مضبوط نہیں ہوتیں، اس کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔