حیدرآباد انکاؤنٹر کی ’فوری تحقیقات‘ ہونی چاہئے: ماہرین قانون

حیدرآباد میں اجتماعی عصمت دری کے بعد متاثرہ کو جلا کر قتل کرنے کے ملزمان پولس تصادم میں مارے گئے ہیں، اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ماہرین قانون نے معاملہ کی فوری طور پر تفتیش کا مطالبہ کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: حیدرآباد میں اجتماعی عصمت دری کے بعد متاثرہ کو جلا کر قتل کرنے کے ملزمان جمعہ کے روز پولس مقابلے میں مارے گئے ہیں، اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے قانون کے ماہرین نے کہا کہ اس معاملہ کی فوری طور پر قانون کے مطابق تفتیش کی جانی چاہئے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینئر ایڈووکیٹ وکاس سنگھ نے کہا ، ’’ملک میں قانون کی حکمرانی ہونی چاہئے۔ انکاؤنٹر میں ملزمان کے قتل کی فوری تحقیقات ہونی چاہئے۔‘‘

واضح رہے کہ جمعہ کی صبح پولس نے حیدرآباد سے 50 کلومیٹر دور شاد نگر کے قریب چٹن پلی کے مقام پر پولس سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کرنے کے بعد فرار ہونے والے ملزمان کو ہلاک کر دیا۔ پولس کا کہنا ہے کہ قتل وقت کے منظر کو سمجھنے کے لئے ملزمان کو وہاں لے جایا گیا تھا۔

وکاس نے زور دے کر کہا کہ انصاف کی فراہمی کے نظام اور شہریوں کے انسانی حقوق کے درمیان توازن ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’حکام کو فوری طور پر اس انکاؤنٹر کی تحقیقات کا آغاز کرنا چاہئے اور یہ تفتیش جلد سے جلد مکمل کی جانی چاہئے۔‘‘

انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے چار ملزمان کی شناخت لاری ڈرائیور محمد عارف (26) اور چنتا کنٹا چناکیشاولو (20) اور لاری کلینر جولو شیوا (20) اور جولو نوین (20) کے طور پر ہوئی ہے۔ تمام ملزمان کا تعلق تلنگانہ کے نارائن پیٹ ضلع سے تھا۔

سینئر ایڈوکیٹ پونیت متل نے کہا کہ پراسرار مقابلے کے پیچھے اصل تصویر منظر عام پر لانے کے لئے فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا ، ’’اس مقابلے کے پیچھے کی وجوہات کی تحقیقات ہونی چاہئے۔ ملزم کے اہل خانہ بھی اس معاملے کی تحقیقات کے لئے عدالت سے رجوع کر سکتے ہیں۔‘‘ وہیں، سینئر ایڈوکیٹ سنجے پاریکھ نے کہا کہ قانون کے مطابق انکاؤنٹر کی تحقیقات قتل کی طرح ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا، ’’قانون کے مطابق، مبینہ مقابلے میں ملوث پولس افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا جانا چاہئے اور اس کی تفتیش ہونی چاہئے۔‘‘

Published: 6 Dec 2019, 3:11 PM
next