حیدر آباد انتخابات: مجلس کا اسٹرائیک ریٹ 86 فیصد، ’کنگ میکر‘ بن کر ابھرے اویسی!

حیدرآباد انتخابات کے نتائج سہ رخی ہونے کی وجہ سے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ حیدرآباد کا میئر کس جماعت کا ہوگا۔ حالانکہ اویسی نے نتائج کے آنے کے بعد کے سی آر کو حمایت دینے کا عندیہ دے دیا ہے۔

اسد الدین اویسی / تصویر آئی اے این ایس
اسد الدین اویسی / تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) کی کل 150 سیٹوں پر یکم دسمبر کو ہونے والے انتخابات میں ریاست کی برسر اقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس) کی 56 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے لیکن وہ اکثریت سے دور رہ گئی۔ لمبی چھلانگ لگاتے ہوئے بی جے پی دوسرے نمبر کی جماعت بن گئی ہے جبکہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین بغیر کسی نقصان کے 44 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ کانگریس کو صرف دو سیٹیں حاصل ہو سکیں۔

اعداد و شمار پر غور کریں تو اویسی کی پارٹی کا اسٹرائیک ریٹ (جیت کی شرح) بہتر رہا ہے۔ اویسی نے 150 ارکان والے کارپوریشن انتخابات میں محض 51 سیٹوں پر ہی امیدار اتارے تھے اور ان میں سے انہیں 44 پر جیت حاصل ہوئی ہے۔ یعنی اویسی کا اسٹرائیک ریٹ 86 فیصد سے زیادہ رہا، جبکہ ٹی آر ایس کو 33 سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ وزیر اعلیٰ چندر شیکھر راؤ کی پارٹی کو 2016 کے انتخابات کے مقابلہ میں 40 فیصد کم سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔

جی ایچ ایم سی کے انتخابات میں برسراقتدار ٹی آر ایس نے 2016 میں 99 سیٹیں حاصل کی تھیں اور میئر کے عہدہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس وقت بی جے پی کو صرف 4 اور اویسی کی ایم آئی ایم کو 44 سیٹیں حاصل ہوئی تھیں۔ بی جے پی نے دھواں دھار تشہیر اور ہندو کارڈ کھیلتے ہوئے حیدرآباد میں زبردست جیت درج کی ہے اور اپنی طاقت کو 12 گنا تک بڑھا لیا ہے۔ 2018 میں 117 سیٹیوں پر ہونے والے تلنگانہ اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی نے 100 سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے لیکن اسے محض 2 سیٹوں پر ہی جیت حاصل ہوئی تھی لیکن دو سال بعد ہی پارٹی نے اس جنوبی ریاست میں مقامی سطح پر جگہ بنا لی ہے۔ بی جے پی 2023 کے اسمبلی انتخابات کے لئے ٹی آر ایس کے لئے بڑا چیلنج بن کر ابھری ہے۔

حیدرآباد انتخابات کے نتائج سہ رخی ہونے کی وجہ سے یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ حیدرآباد کا میئر کس جماعت کا ہوگا۔ چونکہ بی جے پی نے ٹی آر ایس کو زبردست نقصان پہنچایا ہے اور 2023 کے انتخابات میں بھی اسے خطرہ محسوس ہو رہا ہے، لہذا یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید ٹی آر ایس کارپوریشن میں بی جے پی کی مدد نہ لے۔ ادھر، اویسی نے انتخابات کے نتائج کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی کے سی آر کو حمایت دینے کا عندیہ دیا ہے۔

دراصل، دونوں ہی لیڈران اور جماعتوں کو بی جے پی کے بڑھتے قد سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے، لہذا یہ ممکن ہے کہ دونوں بی جے پی کے خلاف لام بند ہو جائیں۔ ایسی صورت حال میں اویسی ٹی آر ایس کے لئے کنگ میکر کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Dec 2020, 3:11 PM
next