کسان تحریک: حقوق کی جنگ میں اتریں تمام بہنوں کو میرا سلام، راہل گاندھی

راہل گاندھی نے کہا ’’بہار کا کسان ایم ایس پی- اے پی ایم سی کے بغیر کافی پریشانی میں ہے اور اب وزیر اعظم نے پورے ملک کو اسی کنویں میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے میں ملک کے کسانوں کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے‘‘۔

کسان تحریک کے دوران مظاہرین کو کھانا پیش کرتی خاتون / Getty Images
کسان تحریک کے دوران مظاہرین کو کھانا پیش کرتی خاتون / Getty Images
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ بہار میں کسان منیمم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی) کے بغیر پریشان ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی نے ملک بھر کے کسانوں کو اس بحران میں دھکیل دیا ہے۔ راہل گاندھی نے ہفتے کے روز کہا ’’بہار کا کسان ایم ایس پی- اے پی ایم سی کے بغیر کافی پریشانی میں ہے اور اب وزیر اعظم نے پورے ملک کو اسی کنویں میں دھکیل دیا ہے۔ ایسے میں ملک کے کسانوں کا ساتھ دینا ہمارا فرض ہے‘‘۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایم ایس پی نہ ملنے پر پریشان بہار کے کسانوں کا ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اورنگ آباد کے کسانوں کو دھان کا ایم ایس پی نہیں مل رہا ہے اور حکومت ان کے بحران پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ کسانوں کی دھان کی کاشت پوری طرح سے برباد ہو گئی ہے۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں راہل گاندھی نے کسان تحریک میں شامل ہونے والی خواتین کی طاقت کو سلام پیش کیا ہے۔ انہوں نے بی بی سی کی ایک رپورٹ کا اسکرین شاٹ شیئر کیا ہے جس کا عنوان ہے، ’ہم خواتین اپنا چولہا چوکا بھی وہیں لگا لیں گی‘۔ ٹوئٹ میں راہل گاندھی نے لکھا، ’’تحریک میں شامل خواتین کسان کی طاقت اور عزم بھی ہندوستان کے فیمنزم کا ایک پہلو ہے۔ زرعی قواینن کی منسوخی تک ڈٹ کر مودی حکومت کے ظلم و ستم کا سامنا کر رہی ہیں۔ اپنے حقوق کی جنگ میں اتری ان تمام بہنوں کو سلام۔‘‘

دریں اثنا کانگریس مواصلات شعبے کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے مودی کو کسان تحریک کو ختم کرنے کے لئے ضد چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا کہ ’’بادشاہت کو ترک کیجیے، راج دھرم نبھائیں۔ کسانوں کی بات سنیں، کالے قوانین کو منسوخ کریں، ورنہ تاریخ نے کبھی بھی غرور کو معاف نہیں کیا۔ کسان مخالف مودی حکومت۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Dec 2020, 2:11 PM
next