مدھیہ پردیش میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں، بدعنوانی انتہا کو پہنچ چکی: کھڑگے

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے زہریلی شراب سمیت مختلف واقعات میں اموات کا حوالہ دیتے ہوئے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت پر بدعنوانی، لاپروائی اور عدم جوابدہی کا الزام لگایا

<div class="paragraphs"><p>کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے / ویڈیو گریب</p></div>
i

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بدعنوانی انتہا تک پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی بے حسی اور لاپروائی کا عالم یہ ہے کہ اب لوگوں کی جان کی بھی کوئی قیمت باقی نہیں رہ گئی ہے۔

کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ساگر ضلع میں زہریلی شراب پینے سے 31 افراد کی موت اور 11 دیگر کے زندگی اور موت کی جنگ لڑنے کا حوالہ دیتے ہوئے ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے 31 خاندان اجڑ گئے۔ کسی نے اپنا بیٹا، کسی نے باپ اور کسی نے شوہر کھو دیا، لیکن بی جے پی حکومت کے لیے یہ بھی محض ایک اور ’حادثہ‘ ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں گزشتہ 22 برس سے بی جے پی حکومت کا یہی طریقہ کار بنا ہوا ہے۔ انہوں نے ریاست میں مختلف اوقات میں پیش آئے کئی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھایا۔

کھڑگے نے بالاگھاٹ میں 27 سے زیادہ بچوں کی موت، اندور میں آلودہ پانی سے 36 افراد کی ہلاکت، زہریلی کف سیرپ سے 25 بچوں کی موت اور سیدھی میں ایک سال کے دوران 53 حاملہ خواتین کی موت کی خبروں کا بھی ذکر کیا۔


انہوں نے کہا کہ زہر شراب میں ہو، پانی میں یا دوا میں، ہر بار اس کی قیمت مدھیہ پردیش کے عوام کو اپنی جان دے کر چکانی پڑ رہی ہے۔ ان کے مطابق، ’ڈبل انجن حکومت‘ جوابدہی سے دوگنی رفتار سے بھاگتی ہوئی نظر آتی ہے۔ کھڑگے نے مزید کہا کہ جب عوام اپنے حقوق اور انصاف کے لیے آواز اٹھاتے ہیں تو حکومت کی جانب سے جواب میں واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مرکز کی حکومت اور بی جے پی کی ریاستی حکومتوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کہیں بھی جوابدہی طے نہیں ہوتی اور کسی کو سزا نہیں ملتی۔ کانگریس صدر نے کہا کہ مدھیہ پردیش حکومت ’بدعنوانی کی انتہا‘ کو پہنچ چکی ہے اور حکومت کی بے حسی اور انتظامی لاپروائی کے نتیجے میں ریاست میں انسانی جان کی قدر مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔