ساگر زہریلی شراب معاملہ: راہل گاندھی نے مدھیہ پردیش حکومت پر حملہ، ’کہاں ہے جوابدہی؟‘

مدھیہ پردیش کے ساگر میں زہریلی شراب سے اموات پر راہل گاندھی نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا اور غیر جانب دارانہ تحقیقات و جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ اس معاملہ میں 30 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>قائد حزب اختلاف راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i

ساگر/بھوپال: مدھیہ پردیش کے ساگر ضلع میں زہریلی شراب سے ہونے والی اموات کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ریاست کی بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں حکمرانی کا نظام تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ایسے واقعات کے بعد چند گرفتاریاں، افسران کی معطلی اور تحقیقات کے احکامات جاری کرنا معمول بن گیا ہے، لیکن مستقل جواب دہی طے نہیں کی جاتی۔

راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ ساگر میں زہریلی شراب نے متعدد لوگوں کی جان لے کر کئی خاندانوں کو سوگوار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق، مدھیہ پردیش کے عوام جانتے ہیں کہ اس کے بعد کیا ہوگا، کچھ گرفتاریاں ہوں گی، کچھ افسران معطل ہوں گے اور تحقیقات کا حکم دیا جائے گا، کیونکہ یہ پہلی بار نہیں ہے۔

کانگریس رہنما نے حالیہ دیگر واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ قبل اندور میں آلودہ پانی پینے سے متعدد افراد کی موت ہوئی تھی، جبکہ گزشتہ سال زہریلی کھانسی کی دوا سے کئی کمسن بچوں کی جان چلی گئی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دوا زہریلی، شراب زہریلی، پانی زہریلا ہونے کے باوجود محض نئے قوانین بنانا کافی ہے یا ان پر مؤثر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو اقتدار میں 20 سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے، لیکن حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آتے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’آخر کب تک لوگوں کی جان کی قیمت صرف حادثے کے بعد کی کارروائی ہوگی؟‘‘


انہوں نے زہریلی شراب معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اموات کی مکمل حقیقت سامنے آنی چاہیے۔ ان کے مطابق صرف چھوٹے ملازمین کے خلاف کارروائی کافی نہیں، بلکہ تحقیقات میں جس کی بھی لاپروائی یا ملی بھگت سامنے آئے، اس کی جواب دہی طے ہونی چاہیے۔

دوسری جانب ساگر شراب سے اموات کے معاملہ میں پولیس نے دو تھانوں میں مجموعی طور پر 30 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، جن میں 14 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ملزمان کے خلاف غیر ارادی قتل، منظم جرائم اور نشہ آور مادہ یا زہر دینے سے متعلق دفعات لگائی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے متعدد شراب کی دکانیں سیل کرکے وہاں موجود شراب کے نمونے جانچ کے لیے بھیج دیے ہیں۔

اس معاملے میں للت پور کنکشن پر اتر پردیش پولیس نے وضاحت کرتے ہوئے اسے گمراہ کن قرار دیا ہے۔ للت پور پولیس کے مطابق نامزد ملزمان میں بیشتر مدھیہ پردیش کے رہنے والے ہیں، جبکہ للت پور سے جوڑا جانے والا ایک ملزم بھی گزشتہ تقریباً 10 برس سے ساگر کے بنڈا علاقے میں رہ رہا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ اگر سار پولیس کی تحقیقات میں للت پور سے متعلق کوئی ٹھوس ثبوت سامنے آتا ہے تو اسے شیئر کیا جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔