مغربی مدھیہ پردیش میں خسرے کے پھیلاؤ پر سی پی آئی ایم کا حکومت پر حملہ، ٹیکہ کاری نظام پر سوال

مدھیہ پردیش میں بچوں میں خسرے کے بڑھتے پھیلاؤ پر سی پی آئی ایم نے حکومت کو نشانہ بنایا۔ پارٹی نے ٹیکہ کاری کے دعوؤں، صحت نظام اور متاثرہ علاقوں میں روک تھام و علاج کے انتظامات پر سوال اٹھائے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

بھوپال: مدھیہ پردیش میں بچوں میں خسرے کے بڑھتے ہوئے معاملات کو لے کر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ (سی پی آئی ایم) نے ریاستی حکومت اور محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں۔ پارٹی نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست میں خسرے کا پھیلاؤ حکومت کے صحت عامہ اور ٹیکہ کاری سے متعلق دعوؤں کی حقیقت سامنے لا رہا ہے اور اس صورتحال میں معصوم بچوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

سی پی آئی ایم کے ریاستی سکریٹری جسوندر سنگھ نے ایک بیان میں کہا کہ پورے مدھیہ پردیش میں ایک ساتھ خسرے کا پھیلاؤ ہوا ہے اور بچوں کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ان کے مطابق، ایسے وقت میں جب معصوم بچوں کی جان خطرے میں ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے مدھیہ پردیش کو ’بیمارو ریاست‘ سے ’ترقی یافتہ ریاست‘ بنانے کے دعوے بھی کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔

جسوندر سنگھ نے کہا کہ اگر نسبتاً ترقی یافتہ سمجھے جانے والے شمالی مدھیہ پردیش میں خسرے کا پھیلاؤ سب سے زیادہ ہے تو ریاستی دارالحکومت بھوپال میں بھی اس بیماری کی موجودگی تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں قبائلی علاقوں کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، جہاں غذائی قلت کے باعث بچوں کی قوت مدافعت کم رہتی ہے اور غریب و قبائلی بچے بیماری کا سب سے پہلے شکار بنتے ہیں۔


سی پی آئی ایم رہنما نے الزام لگایا کہ خسرے کے پھیلاؤ سے بی جے پی حکومت کی دوہری لاپروائی سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران خسرے کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ویکسینیشن کے سو فیصد یا وسیع پیمانے پر کیے جانے والے دعوے زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں بچوں کی ویکسینیشن کی شرح 90 فیصد سے کم ہو، وہاں خصوصی مہم چلانے کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن حکومت مبینہ طور پر کاغذی کارروائی کو ہی مہم کی کامیابی سمجھ رہی ہے۔ ان کے مطابق، اسی غفلت کا نتیجہ ہے کہ بڑی تعداد میں بچے بیماری کا سامنا کر رہے ہیں۔

جسوندر سنگھ نے کہا کہ بارش کے موسم میں خسرے کے ساتھ ہیضہ، قے، دست اور ملیریا جیسی موسمی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں حکومت اور محکمہ صحت کو بیماریوں کی روک تھام کے لیے پہلے سے خصوصی انتظامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاست کا صحت کا بنیادی ڈھانچہ ہی دباؤ کا شکار ہو تو بارش سے پہلے مؤثر احتیاطی اقدامات کی توقع کرنا مشکل ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر جانچ، نگرانی اور علاج کے لیے اب تک جنگی پیمانے پر کوئی مؤثر مہم نظر نہیں آ رہی۔ مکاپا نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خسرے کے خلاف وسیع پیمانے پر خصوصی مہم چلائی جائے، ویکسینیشن کا دائرہ بڑھایا جائے، بیماری کی روک تھام کے مؤثر انتظامات کیے جائیں اور متاثرہ بچوں کے لیے مناسب اور بروقت علاج کی سہولت یقینی بنائی جائے۔