کل تک بی جے پی پر حملہ آور سندھیا آخر مودی-شاہ کا کس طرح کریں گے سامنا!

کچھ دنوں پہلے تک پی ایم نریندر مودی کے سخت مخالف کی شکل میں پہچانے جانے والے کانگریس کے جنرل سکریٹری رہے جیوترادتیہ سندھیا آج بی جے پی میں شامل ہو گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آواز تجزیہ

مدھیہ پردیش کے ایک راج گھرانے سے آنے والے مقبول نوجوان لیڈر جیوترادتیہ سندھیا نے بدھ کو بی جے پی ہیڈکوارٹر میں پارٹی صدر جے پی نڈّا کی موجودگی میں بھگوا پارٹی کی رکنیت لے لی۔ اس دوران انھوں نے پی ایم مودی کی تعریف کرتے ہوئے خود کے بی جے پی میں شالم ہونے کا اعلان کیا۔ اس دوران سندھیا نے پی ایم مودی کے ساتھ ساتھ امت شاہ کی بھی تعریف کی۔ پی ایم مودی کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ملک ان کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔

بدھ کو پی ایم مودی اور بی جے پی کی تعریف میں قصیدے پڑھتے ہوئے سندھیا نے پالا تو بدل لیا، لیکن جس وقت وہ بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں بیٹھ کر یہ قصیدے پڑھ رہے تھے، اسی وقت مودی کو لے کر ان کے کچھ دن پہلے تک کے بیانات سامنے آنے لگے۔ دراصل تلخ تقریر کرنے والے سندھیا اب تک پی ایم مودی اور بی جے پی کے سخت ناقد رہے ہیں۔ اب جب انھوں نے پارٹی بدل لی ہے تو یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ بی جے پی اور پی ایم مودی کے بارے میں آج سے پہلے تک ان کے کیا نظریات رہے ہیں۔

سب سے پہلے بات کرتے ہیں آج سندھیا کے ذریعہ دیے گئے بیان سے۔ بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد اپنے بیان میں سندھیا نے مدھیہ پردیش کے مندسور میں کسانوں پر ہوئی پولس فائرنگ کے واقعہ کا ذکر کیا اور کہا کہ متاثرین کو اب تک نئی حکومت میں راحت نہیں ملی ہے۔ اس دوران سندھیا بھول گئے کہ مندسور واقعہ مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت میں ہوا تھا جس کے خلاف خود انھوں نے بھی تحریک چلائی تھی۔ اور آج وہ اسی بی جے پی کے دفتر میں بیٹھ کر مندسور متاثرین کو یاد کر رہے تھے۔

7 جون 2018 کو مندسور گولی واقعہ اور نوٹ بندی کو لے کر پی ایم مودی اور مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان پر تلخ حملہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا ’’دہلی میں بیٹھے وزیر اعظم مودی ملک میں نوٹ بندی کر رہے ہیں اور مدھیہ پردیش میں بیٹھے ہیں ان کے چھوٹے بھائی، میرے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ جو مندسور میں کسان بندی کر رہے ہیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ جس شخص نے نوٹ بندی کی، جس شخص نے کسان بندی کی، ان دونوں سے نومبر کے مہینے میں آپ لوگ ووٹ بندی کر کے بدلہ لینا۔‘‘

اس سے قبل یکم جنوری 2018 کو جوانوں کی شہادت کا ایشو اٹھاتے ہوئے پی ایم مودی پر نشانہ سادھتے ہوئے انھوں نے کہا تھا کہ ’’جنھوں نے بیان دیا تھا کہ وہ منھ توڑ جواب دیں گے، آج وہ لوگ خاموشی کیوں اختیار کیے ہوئے ہیں، ایک بھی بیان وزیر اعظم کی طرف سے نہیں آیا، جب کہ ہمارے جوان شہید ہوئے ہیں۔‘‘

سال 2019 میں کرناٹک میں کانگریس-جے ڈی ایس حکومت کو بی جے پی ذریعہ غیر مستحکم کرنے پر اسی جیوترادتیہ سندھیا نے بی جے پی پر زبردست حملہ کرتے ہوئے کہا تھا ’’جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ کس طرح بی جے پی نے کرناٹک میں جمہوریت کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی، لیکن ان کے لیے میرا پیغام ہے... آخر میں جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔‘‘

سال 2019 میں ہی 15 اپریل کو سیدھے پی ایم مودی پر حملہ آور ہوتے ہوئے سندھیا نے کہا تھا کہ ’’پانچ سال پہلے ایک آدمی آیا تھا آپ کے سامنے ووٹ بٹورنے، کسان کے نام پر، نوجوان کے نام پر، ملک کے نام پر۔ پانچ سال سے اس شخص کا چہرہ نہیں دیکھنے کو ملا اور جب دوبارہ ووٹ مانگنے کی گھڑی آ گئی تو وہ پھر آنے والا ہے آپ کے سامنے۔ یاد رکھیے گا کہ پانچ سال میں وہ آپ کے سامنے تو نہیں آئے، لیکن 84 ممالک کا دورہ کر لیا۔ انھوں نے اپنے لوگوں کو گلے نہیں لگایا، لیکن غیر ملکی لیڈروں کو جھپّی دیتے نظر آئے۔ ملک کے کسانوں کا کیا حال کر دیا انھوں نے سب کے سامنے ہے۔ پی ایم کے پاس اپنے لوگوں کے لیے وقت نہیں ہے۔ ان کے پاس پاکستان میں جا کر بریانی کھانے کا وقت ہے۔ چین کے صدر کو گھمانے کا وقت مل جاتا ہے۔ نوجوانوں سے تو مودی نے کہا تھا کہ ہم لائیں گے مواقع کا بھنڈار، لیکن لے کر آئے پان او رپکوڑے والی سرکار۔‘‘

کانگریس کے اجلاس میں اپنی تقریر میں انھوں نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن کے ساتھ سلوک پر بی جے پی اور پی ایم مودی کو گھیرتے ہوئے کہا تھا ’’یہ ہے مودی جی کا نیو انڈیا۔ جس پارلیمنٹ کو جمہوریت کا مندر بتایا جاتا ہے، اس میں ہٹلر شاہی نافذ کر کے لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ میں مودی جی اور ان کی حکومت کو کہنا چاہتا ہوں کہ کانگریس کا ایک ایک رکن پارلیمنٹ اور کارکن نہ کبھی جھکا ہے اور نہ کبھی جھکے گا۔ چاہے گردن کٹ جائے، لیکن ہم جھکیں گے نہیں، یہی پیغام ہم اس اجلاس سے دینا چاہتے ہیں۔ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے کہا تھا کہ پانچ انگلی الگ رہیں گی تو بکھر جائیں گی، لیکن یہ مٹھی بن جائیں تو ملک کی ترقی، ملک کا عروج یقینی ہوگا۔ تو ہمیں مٹھی بن کر اس بی جے پی کا سامنا کرنا ہوگا۔‘‘

اس سے قبل سال 2016 میں پی ایم مودی کے چپکے سے پاکستان کے پی ایم نواز شریف کی بیٹی کی شادی میں جانے پر تلخ حملہ کرتے ہوئے سندھیا نے کہا تھا کہ ’’وزیر اعظم کسی کو بغیر بتائے ایک غیر ملکی شادی میں گئے اور آج ہمیں پٹھان کوٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر ملک کے لوگوں کو آپ اعتماد میں لوگے، اپوزیشن پارٹیوں کو آپ اعتماد میں لیں گے اور انھیں بتائیں گے کہ دو فریقی مذاکرہ میں کن ایشوز پر بات چیت ہوئی تو اس کا فائدہ ہوگا۔ لیکن احتیاط آپ نے چھوڑی، تو اس کا خمیازہ ہمارے جوانوں کو اور پورے ملک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔‘‘

اس کے علاوہ ابھی حال ہی میں راجدھانی دہلی میں ہوئے تشدد کے دوران جیوترادتیہ سندھیا نے بی جے پی لیڈروں کو تشدد کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مرکز کی مودی حکومت اور وزیر داخلہ پر خوب حملہ بولا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’دہلی میں آج کی حالت ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کی اپنی ذمہ داری میں زبردست ناکامی کا نتیجہ ہے۔ تشدد کو لے کر کارروائی کرنے میں انھیں اتنا وقت کیوں لگا؟ بی جے پی لیڈروں کو نفرت کی سیاست پھیلانے سے روکنا ہوگا۔ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، دونوں حکومتوں کو ایک ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

غور طلب ہے کہ تقریباً 18 سال تک کانگریس میں رہے سندھیا نے اس دوران پارٹی میں کئی اہم عہدوں کو سنبھالا۔ اس دوران 10 سال تک مرکز میں رہی کانگریس کی حکومتوں میں وہ لگاتار وزارتی عہدہ پر بھی رہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخاب سے پہلے کانگریس نے انھیں مدھیہ پردیش انتخابی تشہیر کمیٹی کا صدر بنایا تھا۔ اور اس کے بعد انھیں پارٹی جنرل سکریٹری بناتے ہوئے مغربی اتر پردیش کا انچارج بنایا گیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next