کورونا سے حفاظت میں ویکسین کتنی کارگر؟ نوجوانوں کو ٹیکہ لگوانا ضروری کیوں؟

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک کے نوجوانوں کو ویکسین لگوانی چاہیے یا نہیں؟ اگر آپ کے ذہن میں ویکسین لگوانے کے حوالہ سے ڈر یا کوئی سوال ہے تو آئیے جانتے ہیں کہ نوجوانوں کو ٹیکہ لگوانا کیوں ضروری ہے؟

کورونا وائرس / آئی اے این ایس
کورونا وائرس / آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: ملک بھر میں کورونا وائرس کے سبب تشویش ناک حالات برقرار ہیں۔ کیسز کی تعداد میں لگاتار اضافہ کے پیش نظر حکومت نے یکم مئی سے 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے لئے بھی ویکسین لگوانے کی ہدایت دی ہے۔ اب تک صرف 45 سال تک کے لوگ ہی ویکسین لگوا سکتے تھے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ملک کے نوجوانوں کو ویکسین لگوانی چاہیے یا نہیں؟ اگر آپ کے ذہن میں ویکسین لگوانے کے حوالہ سے ڈر یا کوئی سوال ہے تو آئیے جانتے ہیں کہ نوجوانوں کو ٹیکہ لگوانا کیوں ضروری ہے؟

دراصل تیزی سے پھیل رہے کورونا انفیکشن نے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایسے حالات میں نوجوانوں کے لئے بھی ویکسین لگوانا ضروری ہو گیا ہے، کیوں کہ ٹیکہ کاری کے بعد سنگین بیمار اور اس سے موت کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ نوجوان کے لئے ٹیکہ لگوانا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ نوجوان تیزی سے کورونا کی نئی قسم (ویرینٹ) سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ٹیکہ لگوانے کے بعد کورونا پھیلنے کا خطرہ کافی حد تک کم ہو سکتا ہے اور لوگ معمول کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 38 فیصد آبادی 18 سے 44 سال تک کے لوگوں کی ہے۔


ممبئی کے لیلاوتی اسپتال کے سینئر ڈاکٹر جلیل پارکر اور اپالو اسپتال دہلی کے سینئر ڈاکٹر ڈاکٹر سرنجیت چٹرجی نے این ڈی ٹی وی سے کورونا ویکسین کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی۔ لیلاوتی اسپتال کے ڈاکٹر جلیل پارکر نے کورونا ویکسین لینے کے سوال پر کہا، ’’ویکسین کے حوالہ سے پہلے سبھی لوگ تذبذب کا شکار تھے لیکن جیسے ہی کوویڈ کا غلبہ ہوا تو لوگوں کو احساس ہو گیا ہے کہ ٹیکہ لینا بہت ضروری ہے۔ ویکسین لینے کی وجہ سے ان کی حالت خراب نہیں ہوئی اور ان کا علاج گھر پر ہی ہو گیا۔’’

انہوں نے مزید کہا، "دوسری لہر کے دوران سب کو معلوم ہے کہ کورونا کا اثر کافی بڑھ گیا ہے اور اس وائرس کا نوجوانوں پر بھی اثر ہو رہا ہے۔ لہذا اگر حکومت ویکسین کی سہولت مہیا کررہی ہے تو حالات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تذبذب کا شکار ہوئے بغیر ہر کسی کو ٹیکہ لگوانا چاہیے۔‘‘


انہوں نے مزید کہا، ’’کسی کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ کورونا کا ٹیکہ لینے کے بعد تکلیف ہوگی۔ جس طرح ہر ٹیکے کے کچھ مضر اثرات ہوتے ہیں، مثلاً سر درد یا بخار اسی طرح کورونا ویکسین کے بھی کچھ اثرات نمایاں ہوتے ہیں لیکن ہم نے نہیں دیکھا کہ ویکسین کی خوراک لینے کے بعد کوئی شدید بیمار ہوا ہو۔’’

وہیں، ویکسین کی دستیابی کے سوال پر ڈاکٹر سرنجیت چٹرجی نے کہا کہ ویکسین کی دستیابی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں امید کرتا ہوں کہ ویکسین کی کمی نہیں ہوگی، کیونکہ جس طرح سے بڑے شہروں میں کورونا پھیل رہا ہے، کووڈ-19 کے تمام اصولوں کی پاسداری کے علاوہ ٹیکہ کاری کرا کر ہی ہم محفوظ رہ سکتے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔