علاج سے انکار کرنے والے اسپتالوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی

محکمہ صحت نے کہا ہے کہ اگر پرائیوٹ اسپتال کسی مریض کو داخل کرنے یا علاج کرنے سے انکار کرے گا تو حکومت اسپتال کا لائسنس رد کرنے کے علاوہ مزید کارروائی کرسکتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

کولکاتا: مغربی بنگال محکمہ صحت نے پرائیوٹ اور سرکاری اسپتالوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی مریض کو علاج فراہم کرنے سے انکار کیا گیا تو متعلقہ اسپتال کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ محکمہ صحت نے کہا ہے کہ اگر پرائیوٹ اسپتال کسی مریض کو داخل کرنے اور علاج کرنے سے انکار کرے گا تو حکومت اسپتال کا لائسنس رد کرنے کے علاوہ مزید کارروائی کرسکتی ہے۔ محکمہ صحت کے سینئر آفیسر نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں پرائیوٹ اسپتالوں کی طرف سے مریضوں کو داخل کرنے اور علاج سے انکار کرنے کی کئی شکایتیں موصول ہوئی ہیں۔

اسپتالوں کی اس رویے کی وجہ سے بہت مرتبہ مریضوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ انکار ”مغربی بنگال کلینیکل اسٹیبلشمنٹ (رجسٹریشن، ریگولیشن اینڈ ٹرانسپیرنسی) ایکٹ 2017“ اور مغربی بنگال کلینیکل اسٹیبلشمنٹ رولز 2017 کے تحت سنگین جرم ہے۔

محکمہ صحت کے جاری کردہ نوٹس میں کہا گیا ہے”اگر کسی بھی پرائیوٹ اسپتال کے خلاف مریض کو داخل کرنے یا پھرعلاج کرنے سے انکار کی شکایت ملی تو مذکورہ اسپتال کے لائسنس کی معطلی سمیت دیگر تعزیراتی اقدامات کیے جائیں گے۔

محکمہ صحت نے اپنے ایک دوسرے حکم نامے میں کہا ہے کہ اگر سرکاری اسپتال کے خلاف بھی اس طرح کی شکایت موصول ہوئی تو متعلقہ افسر کے خلاف ضروری تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ 16مارچ کو کورونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیئے جانے کے بعد سے ہی حکومت مغربی بنگال نے ریاست میں کووڈ- 19 ریگولیش 2020 کو نافذ کیا تھا۔

next