پاکستان: کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں ایچ آئی وی کا معاملہ سنگین، 120 متاثر، 6 بچوں کی موت

کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں طبی غفلت کے باعث ایچ آئی وی کے متاثرین کی تعداد 120 ہو گئی ہے۔ سندھ حکومت نے 78 بچوں کے متاثر ہونے اور 6 بچوں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

پاکستان کے اہم شہر کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ نے پاکستان کے سرکاری نظامِ صحت کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ صوبہ سندھ کے دو سرکاری اسپتالوں سے سامنے آنے والے اس افسوسناک معاملے میں اب تک 120 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ سندھ حکومت نے سرکاری طور پر 78 بچوں کے متاثر ہونے اور 6 بچوں کی موت کی تصدیق کر دی ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف طبی غفلت بلکہ انفیکشن سے تحفظ کے بنیادی اصولوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے زیر انتظام کلثوم بائی والیکا اسپتال میں گزشتہ برس اکتوبر سے ایچ آئی وی کے مشتبہ معاملات سامنے آنے کے بعد وسیع پیمانے پر اسکریننگ مہم شروع کی گئی تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک اسپتال کے اطراف میں رہنے والے 10 ہزار 500 سے زائد افراد کے طبی معائنے کیے جا چکے ہیں، جن میں 120 افراد میں ایچ آئی وی کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیر محنت سعید غنی نے بتایا کہ صوبائی محتسب کو 19 جون 2026 کو پیش کی گئی دوسری تحقیقاتی رپورٹ میں 78 بچوں کے ایچ آئی وی سے متاثر ہونے اور 6 بچوں کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ بچوں کا علاج مختلف طبی اداروں میں جاری ہے اور حکومت اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔


معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے لانڈھی اسپتال میں بھی الگ سے اسکریننگ مہم چلائی گئی، جہاں 2 ہزار افراد کے معائنے کے دوران 10 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی۔ اس پیش رفت نے خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ مسئلہ کسی ایک اسپتال تک محدود نہیں بلکہ سرکاری اور نجی طبی مراکز میں انفیکشن سے تحفظ کے ناقص انتظامات ایک بڑے بحران کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ یا دوبارہ استعمال ہونے والی سرنجوں، طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف نہ کرنے اور انفیکشن کنٹرول کے قواعد پر عمل نہ ہونے کے باعث اس طرح کے واقعات جنم لیتے ہیں۔ پاکستان اس سے قبل بھی غیر محفوظ طبی طریقوں کے باعث ایچ آئی وی کے بڑے بحران کا سامنا کر چکا ہے۔ سنہ 2019 میں سندھ کے رتوڈیرو میں سینکڑوں بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے تھے، جس کی تحقیقات میں غیر محفوظ انجیکشن طریقۂ کار کو بنیادی وجہ قرار دیا گیا تھا۔

سندھ حکومت نے اگرچہ متاثرہ خاندانوں کی شناخت خفیہ رکھنے اور طویل المدتی علاج کی فراہمی کا اعلان کیا ہے، تاہم یہ واقعہ پاکستان کے سرکاری نظامِ صحت پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔ ایسے وقت میں جب چھ معصوم جانیں ضائع ہو چکی ہیں اور درجنوں بچے زندگی بھر کے لیے ایک پیچیدہ بیماری کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں، محض تحقیقات اور بیانات کافی نہیں سمجھے جا سکتے۔ عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ذمہ داروں کا تعین، سخت قانونی کارروائی اور انفیکشن سے بچاؤ کے اصولوں پر مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہو چکا ہے۔