ہندوتوا خطرے میں ہو سکتا ہے، لیکن ہندو مذہب نہ کبھی خطرے میں تھا نہ کبھی ہوگا: دگوجے سنگھ

اپنی تقریر کے دوران دگوجے سنگھ نے کہا کہ ہندو مذہب بہت عظیم اور وسیع ہے، اس میں سبھی کی عزت کی جاتی ہے، لیکن کچھ لوگ اس کا استعمال صرف سیاسی روٹیاں سینکنے کے لیے کر رہے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

مدھیہ پردیش کے اندور میں کانگریس لیڈر دگوجے سنگھ نے آر ایس ایس اور ہندوتوا کے خلاف سخت آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ملک میں ہندو مذہب کو خطرے میں بتا رہے ہیں وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ دگوجے نے کہا کہ ’’جو لوگ کہتے ہیں کہ ہندو مذہب خطرے میں ہے، ان کے لیے بتا دوں کہ اس ملک کے صدر، وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ ہندو ہیں۔ ہندوتوا خطرے میں ہو سکتا ہے لیکن ہندو مذہب کبھی خطرے میں نہیں تھا اور مستقبل میں بھی کبھی نہیں ہوگا۔‘‘

اپنی تقریر کے دوران دگوجے سنگھ نے کہا کہ ہندو مذہب بہت عظیم اور وسیع ہے۔ اس میں سبھی کی عزت کی جاتی ہے، لیکن کچھ لوگ اس کا استعمال صرف سیاسی روٹیاں سینکنے کے لیے کر رہے ہیں۔ آر ایس ایس پر حملہ آور رخ اختیار کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’آر ایس ایس پوشیدہ طور پر نفرت پھیلانے کا کام کرتی ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس سے جڑے لوگ ہندو مذہب کو خطرے میں بتا کر سیاسی عہدوں کو حاصل کر پیسہ کماتے ہیں۔‘‘


اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے دگ وجے سنگھ نے آر ایس ایس کا موازنہ دیمک سے بھی کر ڈالا۔ انھوں نے پروگرام میں موجود لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ ایسی تنظیم سے لڑ رہے ہیں جو اوپر سے نظر نہیں آتا۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے کہ دیمک کسی چیز یا گھر کو اندر سے کھوکھلا کرنے میں لگی رہتی ہے، اسی طرح آر ایس ایس بھی کام کرتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔