کملیش تیواری قتل معاملہ: مولانا کیفی علی رضوی کو عدالت سے ملی ضمانت

مولانا کیفی علی رضوی پر الزام ہے کہ انھوں نے 18 اکتوبر 2019 کو کملیش تیواری کا قتل کیے جانے کے بعد اہم ملزم اشفاق اور معین الدین کو اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ہندوتوا لیڈر کملیش تیواری قتل معاملہ میں ایک بڑی خبر سامنے آ رہی ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اس قتل معاملہ کے ملزمین کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار کیے گئے بریلی کے مولانا کیفی علی رضوی کو چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ کورٹ نے ضمانت دے دی ہے۔ انچارج سی جے ایم سدیش کمار نے 20-20 ہزار روپے کی دو ضمانتوں اور نجی مچلکوں کے داخل کرنے کے بعد مولانا کیفی علی کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مولانا کیفی علی رضوی پر الزام ہے کہ انھوں نے 18 اکتوبر 2019 کو کملیش تیواری کا قتل کیے جانے کے بعد اہم ملزم اشفاق اور معین الدین کو اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ ساتھ ہی مولانا کیفی پر ملزمین کو معاشی مدد کے ساتھ ساتھ علاج کرانے کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ کملیش تیواری قتل معاملہ کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی نے کچھ ثبوتوں کی بنیاد پر 22 اکتوبر کو بریلی سے مولانا کیفی کو گرفتار کیا تھا۔

کملیش تیواری قتل معاملہ میں اس وقت ملزم اشفاق اور معین الدین سمیت تقریباً نصف درجن ملزمین جیل میں بند ہیں۔ مولانا کیفی بھی گرفتاری کے بعد جیل میں ہیں۔ مولانا کی طرف سے پیش ہوئے وکیل نے عدالت میں کہا کہ جس الزام میں انھیں گرفتار کیا گیا ہے، وہ سبھی ضمانتی ہیں۔ اس لیے مولانا کیفی کو ضمانت پر رہا کیا جانا چاہیے۔ اس دلیل کو پیش کیے جانے کے بعد انچارج چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ سدیش کمار نے 20-20 ہزار روپے کی دو ضمانتوں اور نجی مچلکہ داخل کرنے کی صورت میں رہائی کا حکم سنایا۔

next